ایشین لیجنڈز لیگ تنازع، پی سی بی نے اپنے ہی کھلاڑیوں پر نئی پابندیاں عائد کردیں

ایشین لیجنڈز لیگ تنازع، پی سی بی نے اپنے ہی کھلاڑیوں پر نئی پابندیاں عائد کردیں

پاکستان کرکٹ بورڈ نے زیمبیا میں جاری ایشین لیجنڈز لیگ کو غیر منظور شدہ قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس ایونٹ کو نہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اور نہ ہی زیمبیا کرکٹ یونین کی منظوری حاصل ہے۔

بورڈ نے خبردار کیا ہے کہ این او سی کے بغیر ایسی لیگ میں حصہ لینے والے سابق کرکٹرز کو 2 سال تک این او سی جاری نہیں کیا جائے گا اور وہ پی سی بی و پی ایس ایل میں کوچنگ، مینٹورنگ اور دیگر ذمہ داریوں کے لیے بھی نااہل ہوں گے۔

غیر منظور شدہ لیگ پر پی سی بی کا دوٹوک مؤقف

پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ زیمبیا میں جاری ایشین لیجنڈز لیگ ایک غیر منظور شدہ ایونٹ ہے کیونکہ اسے نہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی منظوری حاصل ہے اور نہ ہی زیمبیا کرکٹ یونین نے اس کی اجازت دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پی سی بی کو بڑا قانونی ریلیف، کھلاڑیوں کے مالی معاہدوں کی تفصیلات خفیہ رکھنے کا حکم

بورڈ کے مطابق ایسے ایونٹس میں شرکت نہ صرف قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے بین الاقوامی کرکٹ کے نظم و ضبط پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

پی سی بی نے واضح کیا کہ ایسے تمام موجودہ یا سابق کرکٹرز جو بورڈ سے این او سی حاصل کیے بغیر اس لیگ میں شریک ہوں گے، ان کے خلاف ضابطے کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

این او سی کے بغیر شرکت پر 2 سالہ پابندی

پی سی بی کے مطابق این او سی کے بغیر غیر منظور شدہ لیگ میں حصہ لینے والے سابق کرکٹرز کو آئندہ 2 سال تک کسی بھی غیر ملکی کرکٹ سرگرمی کے لیے این او سی جاری نہیں کیا جائے گا۔

اس کے ساتھ ساتھ ایسے افراد کو اسی مدت کے دوران پاکستان کرکٹ بورڈ اور پاکستان سپر لیگ میں کوچنگ، مینٹورنگ، مشاورتی خدمات یا دیگر سرکاری ذمہ داریاں سونپنے کے لیے بھی نااہل قرار دیا جائے گا۔

موجودہ اور سابق کرکٹرز کے لیے واضح ہدایات

بورڈ نے تمام موجودہ اور سابق کرکٹرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ بیرون ملک کسی بھی کرکٹ ایونٹ یا لیگ میں شرکت سے قبل لازمی طور پر پی سی بی سے این او سی حاصل کریں۔

بورڈ کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کار کھلاڑیوں کے مفادات، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور پاکستان کرکٹ کی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔

دنیا بھر میں مختلف ممالک میں نجی سطح پر متعدد لیگز کا انعقاد کیا جاتا ہے، تاہم بین الاقوامی کرکٹ کے نظام کے تحت کسی بھی لیگ کی قانونی اور انتظامی حیثیت اس وقت مضبوط سمجھی جاتی ہے جب اسے متعلقہ قومی کرکٹ بورڈ اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی منظوری حاصل ہو۔

پاکستان کرکٹ بورڈ بھی اپنے سینٹرل کنٹریکٹ یافتہ، ڈومیسٹک اور سابق کرکٹرز کے لیے این او سی کا نظام نافذ کیے ہوئے ہے تاکہ کھلاڑیوں کی دستیابی، سیکیورٹی ، معاہداتی ذمہ داریوں اور بین الاقوامی قوانین پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔

اسی تناظر میں بورڈ ماضی میں بھی غیر منظور شدہ ایونٹس میں شرکت پر سخت مؤقف اختیار کرتا رہا ہے۔

مزید پڑھیں:ورلڈ کپ مشن 2027 کی تیاری، پی سی بی کا قومی کرکٹرز سے متعلق بڑا ایکشن

پی سی بی کا حالیہ فیصلہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ بورڈ غیر منظور شدہ کرکٹ سرگرمیوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

2 سال تک این او سی نہ دینے اور پی ایس ایل سمیت قومی کرکٹ کے اہم پلیٹ فارمز پر کوچنگ اور مینٹورنگ سے محروم کرنے جیسی پابندیاں سابق کرکٹرز کے لیے ایک مضبوط پیغام ہیں کہ وہ بیرون ملک کسی بھی لیگ میں شرکت سے پہلے تمام قانونی تقاضے پورے کریں۔

یہ اقدام ایک جانب پاکستان کرکٹ کے انتظامی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی کوشش ہے، تو دوسری جانب اس سے مستقبل میں غیر منظور شدہ لیگز کی حوصلہ شکنی بھی متوقع ہے۔

تاہم یہ بھی ضروری ہوگا کہ بورڈ کھلاڑیوں کو این او سی کے حصول کا شفاف، بروقت اور واضح طریقہ کار فراہم کرے تاکہ کسی قسم کی غلط فہمی یا تنازع جنم نہ لے۔

Related Articles