تھائی لینڈ کے شہر فوکٹ سے نئی دہلی جانے والی ایئر انڈیا کی پرواز AI-2379 دورانِ پرواز اچانک شدید فضائی جھٹکوں (ٹربولنس) کا شکار ہو گئی جس کے نتیجے میں طیارے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور کم از کم 15 افراد زخمی ہو گئے جن میں 13 مسافر اور عملے کے 2 ارکان شامل ہیں۔
مسافروں کے مطابق پرواز معمول کے مطابق جاری تھی کہ اچانک طیارہ تقریباً 300 فٹ نیچے آیا اور شدید جھٹکوں نے کیبن میں افراتفری مچا دی کئی مسافر اپنی نشستوں سے اچھل کر طیارے کی چھت سے جا ٹکرائے جبکہ متعدد افراد کے سر چہرے اور جسم کے مختلف حصوں پر چوٹیں آئیں۔
اطالوی خاتون مسافر ویویانا نے میڈیا کو بتایا کہ ان کی والدہ بھی زخمی ہوئیں ان کے مطابق اچانک آنے والے شدید جھٹکوں کے دوران انہوں نے اپنی بہن کو نشست سے ہوا میں اچھلتے دیکھا جبکہ والدہ کے سر پر چوٹ آئی اور ایک مسافر کے چہرے سے خون بہنے لگا انہوں نے کہا کہ اس لمحے انہیں محسوس ہوا جیسے طیارہ گرنے والا ہے اور تمام مسافر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:اب مہنگا موبائل پیکج لینے کی ضرورت نہیں، پی ٹی اے نے آسان حل بتا دیا
ایئر انڈیا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دورانِ پرواز اچانک موسم کی خرابی کے باعث بلندی میں غیر متوقع تبدیلی آئی تاہم پائلٹ نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے طیارے کو بحفاظت اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ نئی دہلی پر اتار لیا۔
#Breakingnews
फुकेट से दिल्ली आ रही एअर इंडिया की फ्लाइट AI2379 को उड़ान के दौरान अचानक टर्बुलेंस का सामना करना पड़ा। कुछ पल के लिए विमान की ऊंचाई में बदलाव हुआ, लेकिन क्रू ने स्थिति को सुरक्षित तरीके से संभाल लिया। विमान में 134 यात्री सवार थे। #AirIndia pic.twitter.com/Uh3O84A1Qh— @DK1616 (@daksh1616) August 4, 2026

