12 اگست کا مکمل سورج گرہن، کن ممالک میں دن کے وقت چھا جائے گا اندھیرا؟

12 اگست کا مکمل سورج گرہن، کن ممالک میں دن کے وقت چھا جائے گا اندھیرا؟

دنیا بھر میں فلکیات سے دلچسپی رکھنے والے افراد 12 اگست 2026 کو ایک نایاب آسمانی منظر دیکھ سکیں گے، جب مکمل سورج گرہن گرین لینڈ، آئس لینڈ اور شمالی اسپین سے گزرتا ہوا نظر آئے گا۔

یہ 1999 کے بعد یورپ کی مرکزی سرزمین پر دکھائی دینے والا پہلا مکمل سورج گرہن ہوگا، جس کے دوران چاند چند منٹ کے لیے سورج کو مکمل طور پر ڈھانپ لے گا، جس سے دن کے وقت بھی اندھیرا چھا جائے گا۔ اس موقع پر سورج کا بیرونی روشن حلقہ، جسے کورونا کہا جاتا ہے بھی واضح طور پر دیکھا جا سکے گا۔

یہ بھی پڑھیں:پلاسٹک آلودگی کا حل؟ نئی ٹیکنالوجی سے ماحول دوست ایندھن میں تبدیل

ماہرین کے مطابق مکمل سورج گرہن صرف ان علاقوں میں دیکھا جا سکے گا جو پاتھ آف ٹوٹیلٹی میں واقع ہیں۔ اس راستے میں گرین لینڈ، آئس لینڈ اور شمالی اسپین شامل ہیں، جہاں لاکھوں افراد اس منفرد فلکیاتی مظہر کا مشاہدہ کریں گے۔

دوسری جانب شمالی امریکا، یورپ کے بیشتر حصوں اور مغربی افریقا کے کئی علاقوں میں مکمل کے بجائے جزوی سورج گرہن دکھائی دے گا، جہاں چاند سورج کے صرف ایک حصے کو ڈھانپے گا۔

یہ بھی پڑھیں:رات کو موبائل چارج کرنا بہتر یا صبح؟ ماہرین نے بیٹری کی صحت کا راز بتا دیا

ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ سورج گرہن اس وقت ہوتا ہے جب چاند زمین اور سورج کے درمیان آجاتا ہے اور اس کا سایہ زمین پر پڑتا ہے۔ اگر چاند سورج کو مکمل طور پر ڈھانپ لے تو اسے مکمل سورج گرہن کہا جاتا ہے، جبکہ سورج کا صرف کچھ حصہ چھپنے کی صورت میں اسے جزوی سورج گرہن کہا جاتا ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق ایسے مواقع صرف خوبصورت فلکیاتی مناظر ہی پیش نہیں کرتے بلکہ سورج کی بیرونی فضا، یعنی کورونا، کا مطالعہ کرنے کا اہم موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔ اس تحقیق سے سورج کی سرگرمیوں، شمسی ہواؤں اور خلائی موسم کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :شہابیہ زمین کی طرف آیا تو کیا ہوگا؟ چین نے نیا دفاعی منصوبہ پیش کر دیا

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سورج گرہن کو براہ راست ننگی آنکھ سے دیکھنا آنکھوں کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ اس کے مشاہدے کے لیے صرف بین الاقوامی معیار کے سولر ویونگ گلاسز یا دیگر محفوظ فلکیاتی آلات استعمال کیے جائیں۔

فلکیات کے ماہرین کے مطابق 12 اگست 2026 کا یہ مکمل سورج گرہن حالیہ برسوں کے اہم ترین فلکیاتی واقعات میں شمار کیا جا رہا ہے، جسے دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے ہزاروں سیاح اور ماہرین گرین لینڈ، آئس لینڈ اور اسپین کا رخ کریں گے۔

editor

Related Articles