سونا مزید مہنگا ہونے کا خدشہ، ماہرین نے بڑی پیشگوئی کر دی

سونا مزید مہنگا ہونے کا خدشہ، ماہرین نے بڑی پیشگوئی کر دی

عالمی مارکیٹ میں سونا کی قیمت میں مسلسل چوتھے روز بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد قیمت سات ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ماہرین کے مطابق امریکی ڈالر کی کمزوری امریکی ٹریژری بانڈز کی پیداوار میں کمی اور مشرق وسطیٰ میں سفارتی پیش رفت کی امیدوں نے سونے کی قیمتوں کو نئی بلندی تک پہنچا دیا ہے۔

بین الاقوامی گولڈ مارکیٹ میں اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.5 فیصد اضافے کے ساتھ 4,265.22 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی جو 18 جون کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ اسی طرح امریکی گولڈ فیوچر بھی 0.5 فیصد اضافے کے بعد 4,324.60 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ کرتے رہے۔

 سونے کی قیمتوں میں حالیہ تیزی کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں۔ امریکی ڈالر کی قدر میں کمی کے باعث دیگر کرنسی رکھنے والے سرمایہ کاروں کے لیے سونا نسبتاً سستا ہو گیا جبکہ امریکی 10 سالہ ٹریژری بانڈز کی پیداوار میں کمی نے بھی قیمتی دھات کی طلب میں اضافہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں:طلبہ کی بڑی خوشخبری، ہفتے کی چھٹی دوبارہ بحال

 مشرق وسطیٰ میں سفارتی پیش رفت اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے مثبت امکانات نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بہتر بنایا ہے۔ اگر تیل کی قیمتوں پر دباؤ برقرار رہا اور مرکزی بینکوں کو شرح سود میں اضافے کی ضرورت پیش نہ آئی تو سونے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

 اگر سونا اپنی 200 روزہ موونگ ایوریج سے اوپر مستحکم رہتا ہے تو مستقبل میں اس کی قیمت 5 ہزار ڈالر فی اونس تک بھی پہنچ سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران اور عمان کے درمیان ایک مجوزہ معاہدے پر بھی پیش رفت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جس کا مقصد ایران اور امریکا کے درمیان کئی ماہ سے جاری کشیدگی کے خاتمے کی راہ ہموار کرنا ہے اگر خطے میں حالات مزید بہتر ہوتے ہیں تو عالمی مالیاتی منڈیوں میں بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے ستمبر میں شرح سود میں اضافے کے امکانات بھی کم ہو کر 55 فیصد رہ گئے ہیں  جبکہ دو روز قبل یہ امکان 67 فیصد تھا۔ شرح سود میں اضافے کے امکانات کم ہونے کو بھی سونے کی قیمتوں کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:گریڈ 1 سے 22 تک کے ملازمین کے الاؤنسز سے متعلق وزارت خزانہ کا بڑا اعلان

دیگر قیمتی دھاتوں میں چاندی کی قیمت معمولی کمی کے بعد 62.02 ڈالر فی اونس رہی جبکہ پلاٹینم 1.2 فیصد اضافے کے ساتھ 1,755.18 ڈالر فی اونس پر پہنچ گیا، جو جون کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ پیلیڈیم بھی 0.8 فیصد اضافے کے بعد 1,374.33 ڈالر فی اونس پر پہنچ گیا اور مسلسل تیسرے روز تیزی ریکارڈ کی گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں کی نظریں اب امریکا کی نان فارم پے رولز رپورٹ پر مرکوز ہیں، کیونکہ اس رپورٹ کے نتائج آئندہ دنوں میں سونے کی قیمتوں کا رخ متعین کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں

Qaisar Mirza
editor

Related Articles