گریڈ 1 سے 22 تک کے ملازمین کے الاؤنسز سے متعلق وزارت خزانہ کا بڑا اعلان

گریڈ 1 سے 22 تک کے ملازمین کے الاؤنسز سے متعلق وزارت خزانہ کا بڑا اعلان

وزارت خزانہ نے وفاقی سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہوں اور ایڈہاک ریلیف الاؤنسز سے متعلق جاری ہونے والی مختلف خبروں اور ابہام پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایڈہاک ریلیف الاؤنس 2023 اور 2024 کی موجودہ شرحوں میں مزید اضافہ نہیں کیا جائے گا بلکہ انہیں موجودہ سطح پر ہی منجمد رکھا گیا ہے۔

وزارت خزانہ کے اعلامیے کے مطابق وفاقی حکومت نے ایڈہاک ریلیف الاؤنس 2023 اور ایڈہاک ریلیف الاؤنس 2024 کو آئندہ احکامات تک موجودہ شرح پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق نئے اور پہلے سے ملازمت کرنے والے دونوں سرکاری ملازمین پر ہوگا تاہم دونوں کی ادائیگی متعلقہ بنیادی پے اسکیل کے مطابق کی جائے گی۔

اعلامیے کے مطابق ایڈہاک ریلیف الاؤنس 2023 پہلے ہی 30 جون 2023 کی سطح پر منجمد ہے۔ نئے بھرتی ہونے والے ملازمین کو بھی یہ الاؤنس بنیادی پے اسکیل 2022 کی بنیاد پر ادا کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:بجلی کا بل آدھا کرنا ہے ؟ آسان فارمولا جان لیں

وزارت خزانہ نے مزید واضح کیا کہ خصوصی تنخواہیں اور ان سے متعلق تمام خصوصی الاؤنسز بھی 30 جون 2026 کی سطح پر ہی برقرار رہیں گے اور ان میں بھی فی الحال کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا۔

اعلامیے کے مطابق گریڈ ایک سے 16 تک کے ملازمین کو ایڈہاک ریلیف الاؤنس 2023 بنیادی تنخواہ کا 35 فیصد جبکہ گریڈ 17 سے 22 تک کے افسران کو بنیادی تنخواہ کا 30 فیصد ادا کیا جائے گا۔ یہ شرح آئندہ حکومتی احکامات تک برقرار رہے گی۔

اسی طرح ایڈہاک ریلیف الاؤنس 2024 کے تحت گریڈ ایک سے 16 تک کے ملازمین کو بنیادی تنخواہ (بنیادی پے اسکیل 2022) کا 25 فیصد جبکہ گریڈ 17 سے 22 تک کے ملازمین کو 20 فیصد الاؤنس دیا جائے گا۔ وزارت خزانہ کے مطابق یہ الاؤنس بھی 30 جون 2026 کی سطح پر منجمد رہے گا۔

اعلامیے میں مزید بتایا گیا ہے کہ یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد بھرتی ہونے والے وفاقی سرکاری ملازمین کو ایڈہاک ریلیف الاؤنس 2024 بنیادی پے اسکیل 2024 کی بنیاد پر ادا کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستانیوں کے لیے یورپ جانے کا سنہری موقع، بھرتیاں شروع ہوگئیں

وزارت خزانہ نے واضح کیا ہے کہ اس وضاحت کا مقصد سرکاری ملازمین میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرنا ہے، جبکہ الاؤنسز اور تنخواہوں سے متعلق مستقبل میں کسی بھی قسم کی تبدیلی صرف حکومت کے نئے فیصلے اور باضابطہ نوٹیفکیشن کے بعد ہی نافذ العمل ہوگی

Qaisar Mirza
editor

Related Articles