اقوام متحدہ نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ جموں کشمیر کے تنازع پر اس کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا اور مسئلے کا پائیدار حل اقوام متحدہ کے منشور، سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں، شملہ معاہدے اور انسانی حقوق کے مکمل احترام کے مطابق پرامن ذرائع سے ہی ممکن ہے۔
عالمی ادارے کے تازہ بیان نے ایک مرتبہ پھر اس دیرینہ تنازع کو بین الاقوامی سفارتی بحث کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔
اقوام متحدہ نے مؤقف ایک بار پھر دہرایا
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے نائب ترجمان فرحان عزیز حق نے نیویارک میں معمول کی پریس بریفنگ کے دوران جموں کشمیر کی صورتحال اور 5 اگست 2019 کے بھارتی اقدام سے متعلق سوالات کے جواب میں کہا کہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ عالمی ادارے کا مؤقف اقوام متحدہ کے منشور اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہے، جبکہ سیکرٹری جنرل مسلسل 1972 کے شملہ معاہدے کا بھی حوالہ دیتے ہیں، جو پاکستان اور بھارت کے درمیان دوطرفہ تعلقات کا بنیادی معاہدہ تصور کیا جاتا ہے۔
ان کے مطابق تنازع کا حل پرامن ذرائع، مذاکرات اور انسانی حقوق کے مکمل احترام کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔
5 اگست 2019 کا اقدام کیوں اہم سمجھا جاتا ہے؟
سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق پاکستان نے 5 اگست کو بھارتی اقدام کی برسی منائی، جب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت نے مقبوضہ جموں کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرتے ہوئے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو منسوخ کر دیا تھا۔
اس فیصلے کے بعد وادی میں مواصلاتی نظام معطل کر دیا گیا، انٹرنیٹ اور ٹیلی فون سروسز پر پابندیاں عائد کی گئیں، نقل و حرکت محدود کر دی گئی اور بڑی تعداد میں اضافی بھارتی فوجی تعینات کیے گئے۔ ان اقدامات نے عالمی سطح پر انسانی حقوق، شہری آزادیوں اور خطے کی مجموعی صورتحال پر وسیع بحث کو جنم دیا۔
آبادی کے تناسب سے متعلق خدشات
رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت نے بعد ازاں بڑی تعداد میں غیر مقامی افراد کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹس جاری کیے، جن کے ذریعے مستقل رہائش، جائیداد کے بعض حقوق اور سرکاری ملازمتوں تک رسائی ممکن ہوئی۔
ناقدین کا مؤقف ہے کہ ایسے اقدامات خطے کی آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی کوشش قرار دیے جاتے ہیں، جبکہ بھارت ان اقدامات کو انتظامی اور آئینی اصلاحات کا حصہ قرار دیتا ہے۔ یہی اختلاف اس تنازع کے حساس ترین پہلوؤں میں شمار ہوتا ہے۔
پاکستان کا مؤقف
پاکستان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ جموں کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے اور اس کا حتمی فیصلہ سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔ پاکستان ہر سال 5 اگست کو یومِ استحصالِ کشمیر کے طور پر مناتا ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ انسانی حقوق کی صورتحال کا مؤثر نوٹس لے۔
جموں کشمیر کا تنازع برصغیر کی تقسیم کے بعد سے جنوبی ایشیا کے سب سے پیچیدہ اور دیرینہ تنازعات میں شامل ہے۔
1948 اور اس کے بعد سلامتی کونسل نے متعدد قراردادیں منظور کیں جن میں تنازع کے پرامن حل پر زور دیا گیا۔ بعد ازاں 1972 کے شملہ معاہدے میں پاکستان اور بھارت نے اس مسئلے سمیت تمام باہمی اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے نے اس تنازع کو نئی سفارتی اور سیاسی جہت دی، جس کے بعد سے پاکستان، بھارت اور عالمی اداروں کے بیانات میں یہ معاملہ مسلسل زیر بحث رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے نائب ترجمان کا تازہ بیان اس لحاظ سے اہم ہے کہ اس میں عالمی ادارے نے اپنے دیرینہ مؤقف میں کسی تبدیلی کی تردید کر دی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنوبی ایشیا میں علاقائی سلامتی، سفارتی تعلقات اور انسانی حقوق کے معاملات ایک مرتبہ پھر عالمی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔
اگرچہ اقوام متحدہ نے کسی نئے لائحہ عمل یا اقدام کا اعلان نہیں کیا، تاہم اس نے واضح کیا کہ اس کے نزدیک تنازع کے حل کا بنیادی فریم ورک وہی ہے جو اقوام متحدہ کے منشور، سلامتی کونسل کی قراردادوں، شملہ معاہدے اور انسانی حقوق کے احترام پر مبنی ہے۔
یہ بیان سفارتی سطح پر پاکستان کے مؤقف کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے، جبکہ بھارت بدستور اپنے آئینی اقدامات کو داخلی معاملہ قرار دیتا ہے۔ اسی وجہ سے مستقبل میں بھی کشمیر کا مسئلہ جنوبی ایشیا کی سیاست، سفارت کاری اور علاقائی استحکام کے تناظر میں عالمی مباحث کا اہم حصہ رہنے کا امکان ہے۔