شہر اقتدار کی جانب لانگ مارچ اور دھرنوں کے اعلانات کے بعد اسلام آباد اور راولپنڈی کی انتظامیہ نے سیکیورٹی کے لیے الگ الگ منصوبے تیار کرلیے ہیں،جڑواں شہروں میں ممکنہ احتجاجی سرگرمیوں کے پیش نظر اہم شاہراہوں اور داخلی و خارجی راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کی تیاریاں تیز کردی گئی ہیں۔
اسلام آباد اور راولپنڈی میں مختلف اہم مقامات پر بڑی تعداد میں کنٹینرز پہنچا دیے گئے ہیں، جنہیں ضرورت پڑنے پر سڑکوں اور داخلی راستوں کو بند کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا،اسلام آباد میں 26 نمبر چونگی، فیض آباد، کشمیر ہائی وے اور مری روڈ سمیت اہم شاہراہوں پر کنٹینرز کی موجودگی بڑھا دی گئی ہے۔
ریڈ زون کے راستے بند
اسلام آباد میں ریڈ زون کی جانب جانے والے تین راستے سیل کردیئے گئے ہیں، جبکہ دیگر راستوں پر بھی صورتحال کو دیکھتے ہوئے رکاوٹیں لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے،انتظامیہ کی جانب سے حساس مقامات اور اہم سرکاری عمارتوں کی سیکیورٹی پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
دیگر صوبوں سے پولیس طلب
ممکنہ احتجاج اور لانگ مارچ کے پیش نظر دوسرے صوبوں سے بھی پولیس نفری اسلام آباد اور راولپنڈی پہنچنا شروع ہوگئی ہے،اضافی نفری کو اہم شاہراہوں، داخلی راستوں اور حساس مقامات پر تعینات کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ سیکیورٹی اہلکاروں کو مختلف مقامات پر حالات کے مطابق ذمہ داریاں سونپی جائیں گی۔
راولپنڈی میں 11 ہزار اہلکار تعینات
راولپنڈی انتظامیہ کے سیکیورٹی پلان کے مطابق شہر میں 11 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں گے،پولیس کی اضافی نفری کو احتجاجی سرگرمیوں کے ممکنہ راستوں، اہم شاہراہوں اور حساس مقامات پر تعینات کیا جائے گا تاکہ کسی بھی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
26 داخلی راستے بند کرنے کا فیصلہ
راولپنڈی میں سیکیورٹی پلان کے تحت شہر کے 26 داخلی راستے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،اس کے علاوہ شہر کے مختلف علاقوں میں 72 مقامات پر رکاوٹیں لگانے کی تیاری کی گئی ہے، انتظامیہ کے مطابق ان اقدامات کا مقصد ممکنہ احتجاجی سرگرمیوں کے دوران ٹریفک اور سیکیورٹی صورتحال کو کنٹرول میں رکھنا ہے۔
اڈیالہ جیل جانے والے راستے بھی بند ہوں گے
راولپنڈی میں اڈیالہ جیل جانے والے 8 راستے بھی بند کیے جائیں گے۔ جیل کے اطراف سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کیے جانے کی تیاری ہے،حساس تنصیبات اور اہم مقامات کے اطراف بھی پولیس کی اضافی نفری تعینات کیے جانے کا امکان ہے۔
اندرون شہر 50 گلیاں بند کرنے کی تیاری
راولپنڈی کے اندرون شہر 50 مرکزی گلیاں بھی بند کرنے کی تیاری کرلی گئی ہے۔ ان مقامات پر رکاوٹیں لگا کر آمدورفت کو محدود کیا جائے گا۔
اس صورتحال کے باعث جڑواں شہروں میں شہریوں کو سفر کے دوران مشکلات اور ٹریفک کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، خصوصاً ان شاہراہوں پر جہاں احتجاجی سرگرمیوں کے پیش نظر راستے بند یا محدود کیے جائیں گے۔
سیکیورٹی انتظامات مزید سخت
لانگ مارچ اور دھرنوں کے اعلانات کے بعد اسلام آباد اور راولپنڈی میں انتظامیہ کی جانب سے سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کیے جا رہے ہیں۔ دونوں شہروں میں اہم راستوں کی نگرانی، اضافی پولیس نفری کی تعیناتی اور رکاوٹوں کی تنصیب کا عمل احتجاجی سرگرمیوں کی صورتحال کے مطابق آگے بڑھایا جائے گا۔