حکومت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے سیاسی مسائل کے حل کے لیے بات چیت کی ضرورت پر زور دیا۔
اس سلسلے میں پی ٹی آئی کے چیف وہیپ عامر ڈوگر نے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات کی، جس میں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری بھی شریک تھے۔
مذاکرات کی پیشکش
ملاقات کے دوران حکومتی نمائندوں نے پی ٹی آئی کو دوبارہ مذاکرات کی باضابطہ دعوت دی، حکومت نے تجویز دی کہ مذاکرات پارلیمنٹ ہاؤس میں اسی مقام پر کیے جا سکتے ہیں جس کی نشاندہی خود پی ٹی آئی نے کی تھی، تاکہ دونوں فریق اطمینان سے اہم قومی اور سیاسی معاملات پر بات چیت کر سکیں۔
حکومت کا مؤقف
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ملک کو درپیش سیاسی چیلنجز کا واحد حل مذاکرات ہیں، ان کا کہنا تھا کہ حکومت سیاسی کشیدگی میں کمی اور قومی مفاد میں بات چیت کے لیے سنجیدہ ہے۔
بال پی ٹی آئی کے کورٹ میں ہے
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ حکومت اپنی جانب سے مذاکرات کی دعوت دے چکی ہے اور اب فیصلہ پاکستان تحریک انصاف کو کرنا ہے، انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے حوالے سے بال پی ٹی آئی کے کورٹ میں ہے۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ وزیراعظم کی جانب سے قائد حزب اختلاف کو مذاکرات کی دعوت دی جا چکی ہے، تاہم اب تک اس کا کوئی باضابطہ جواب موصول نہیں ہوا،انہوں نے امید ظاہر کی کہ پی ٹی آئی اس پیشکش کو سنجیدگی سے لے گی اور مذاکراتی عمل کا حصہ بنے گی۔
سیاسی اہمیت
حکومت کی جانب سے دوبارہ مذاکرات کی دعوت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک میں سیاسی درجہ حرارت برقرار ہے،اگر دونوں فریق مذاکرات کی میز پر آتے ہیں تو اس سے سیاسی کشیدگی میں کمی اور اہم قومی معاملات پر پیش رفت کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
پی ٹی آئی کا انتظار
حکومت کی نئی پیشکش کے بعد اب سیاسی حلقوں کی نظریں پاکستان تحریک انصاف پر مرکوز ہیں کہ آیا وہ مذاکرات کی دعوت قبول کرتی ہے یا اپنے سابقہ مؤقف پر قائم رہتی ہے۔