100 سے 40 ہزار روپے تک کے پرائز بانڈز رکھنے والوں کیلئے اہم خبر آگئی

100 سے 40 ہزار روپے تک کے پرائز بانڈز رکھنے والوں کیلئے اہم خبر آگئی

پاکستان میں پرائز بانڈز رکھنے والوں کے لیے انعامی رقم سے متعلق اہم تفصیلات سامنے آگئی ہیں، اگر آپ بھی پرائز بانڈز خریدتے ہیں یا کسی قرعہ اندازی میں بڑا انعام جیتنے کی امید رکھتے ہیں تو یہ معلومات آپ کے لیے انتہائی اہم ہیں، کیونکہ انعام کی پوری رقم جیب میں نہیں آتی۔

فائلر اور نان فائلر کے لیے ٹیکس کٹوتی مختلف ہے، جس کے باعث ایک ہی انعام جیتنے کے باوجود دونوں کو ملنے والی رقم میں بڑا فرق پڑ سکتا ہے۔

پاکستان میں پرائز بانڈز کو بچت اور سرمایہ کاری کے مقبول ذرائع میں شمار کیا جاتا ہے ، شہری اپنی رقم محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ قرعہ اندازی کے ذریعے بڑے انعام کی امید بھی رکھتے ہیں۔ خاص طور پر ان افراد میں پرائز بانڈز کی دلچسپی زیادہ ہے جو سود سے پاک بچت کے متبادل تلاش کرتے ہیں۔

تاہم، پرائز بانڈ کا انعام نکلنے کے بعد پوری رقم وصول نہیں ہوتی ، حکومت کے مقررہ قوانین کے تحت انعامی رقم پر ودہولڈنگ ٹیکس لاگو ہوتا ہے،  اس ٹیکس کی شرح اس بات پر منحصر ہے کہ انعام جیتنے والا شخص فائلر ہے یا نان فائلر۔

پرائز بانڈ پر فائلر اور نان فائلر کا ٹیکس

دستیاب تفصیلات کے مطابق ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ (ATL) میں شامل افراد، یعنی فائلرز، کی انعامی رقم سے 15 فیصد ٹیکس منہا کیا جاتا ہے۔

دوسری جانب نان فائلرز کے لیے ٹیکس کی شرح 30 فیصد ہے، نان فائلر کو اسی انعام پر فائلر کے مقابلے میں دوگنا ٹیکس ادا کرنا پڑ سکتا ہے، یہ  فرق اس وقت مزید نمایاں ہوجاتا ہے جب انعام کی رقم لاکھوں یا کروڑوں روپے میں ہو۔

مثال کے طور پر اگر 1500 روپے والے پرائز بانڈ کا پہلا انعام 30 لاکھ روپے نکلتا ہے تو فائلر اور نان فائلر کو ملنے والی رقم مختلف ہوگی۔

فائلر کو 30 لاکھ روپے کے انعام پر 15 فیصد کے حساب سے 4 لاکھ 50 ہزار روپے ٹیکس کٹے گا ، یوں فاتح کو 25 لاکھ 50 ہزار روپے ملیں گے۔

نان فائلر کو  30 لاکھ روپے کے انعام پر 30 فیصد یعنی 9 لاکھ روپے ٹیکس کٹے گا ، اس صورت میں نان فائلر کو 21 لاکھ روپے حاصل ہوں گے، یعنی صرف ٹیکس فائلر نہ ہونے کی وجہ سے اسی انعام پر 4 لاکھ 50 ہزار روپے کا اضافی فرق پڑ سکتا ہے۔

اسی طرح 100 روپے کے پرائز بانڈ کا پہلا انعام 15 لاکھ روپے ہے، جس میں فائلر کو ٹیکس کٹوتی کے بعد 12 لاکھ 75 ہزار روپے جبکہ نان فائلر کو 10 لاکھ 50 ہزار روپے ملتے ہیں۔

200 روپے کے بانڈ کا پہلا انعام 7 لاکھ 50 ہزار روپے ہے، جس پر فائلر کو 6 لاکھ 37 ہزار 500 روپے اور نان فائلر کو 5 لاکھ 25 ہزار روپے ملتے ہیں۔ اسی طرح 750 روپے کے بانڈ کا 15 لاکھ روپے کا انعام فائلر کے لیے 12 لاکھ 75 ہزار روپے جبکہ نان فائلر کے لیے 10 لاکھ 50 ہزار روپے رہ جاتا ہے۔

1,500 روپے کے بانڈ کا پہلا انعام 30 لاکھ روپے ہے، جس میں فائلر کو 25 لاکھ 50 ہزار روپے اور نان فائلر کو 21 لاکھ روپے ملتے ہیں،  15 ہزار روپے کے بانڈ کا 3 کروڑ روپے کا انعام فائلر کے لیے 2 کروڑ 55 لاکھ روپے جبکہ نان فائلر کے لیے 2 کروڑ 10 لاکھ روپے رہتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :40 ہزار روپے کے پرائز بانڈز رکھنے والوں کے لیے خوشخبری

اسی طرح 25 ہزار روپے کے پرائز بانڈ پر 5 کروڑ روپے کا انعام جیتنے والے فائلر کو 4 کروڑ 25 لاکھ روپے اور نان فائلر کو 3 کروڑ 50 لاکھ روپے ملتے ہیں، جبکہ 40 ہزار روپے کے پرائز بانڈ کے 8 کروڑ روپے کے انعام میں فائلر کو 6 کروڑ 80 لاکھ روپے اور نان فائلر کو 5 کروڑ 60 لاکھ روپے حاصل ہوتے ہیں۔

بڑے انعام میں ٹیکس کا اثر مزید بڑھ جاتا ہے

پرائز بانڈز کی قرعہ اندازی میں بعض اوقات انعامی رقم لاکھوں سے بڑھ کر کروڑوں روپے تک پہنچ جاتی ہے۔ ایسی صورت میں فائلر اور نان فائلر کے درمیان ٹیکس کا فرق بھی بہت زیادہ ہوسکتا ہے۔

اسی لیے جو افراد باقاعدگی سے پرائز بانڈز رکھتے ہیں، ان کے لیے اپنی ٹیکس حیثیت سے آگاہ رہنا اہم ہے،  خاص طور پر بڑے انعام کی صورت میں فائلر ہونا وصول ہونے والی حتمی رقم پر براہِ راست اثر ڈال سکتا ہے۔

نان فائلرز کے لیے اہم بات

نان فائلرز کو پرائز بانڈ کے انعام پر فائلرز کے مقابلے میں زیادہ ٹیکس دینا پڑتا ہے،  اس وجہ سے اگر کسی شخص کا بڑا انعام نکل آئے تو اسے توقع سے خاصی کم رقم مل سکتی ہے۔

لہٰذا پرائز بانڈ خریدنے والوں کے لیے صرف قرعہ اندازی کا نتیجہ دیکھنا کافی نہیں۔ انعام نکلنے کی صورت میں ٹیکس کٹوتی کے بعد ملنے والی اصل رقم بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔

پرائز بانڈز اب بھی بہت سے پاکستانیوں کے لیے بچت کا ایک اہم ذریعہ ہیں تاہم، انعام جیتنے کی صورت میں ٹیکس کٹوتی کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ، ماہرین کے مطابق مالی معاملات میں شفافیت اور ٹیکس حیثیت سے متعلق آگاہی شہریوں کو بہتر فیصلے کرنے میں مدد دیتی ہے،  خاص طور پر بڑے انعام کے امیدواروں کو پہلے ہی یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ان کی حتمی وصولی کتنی ہوسکتی ہے۔

اس لیے اگر آپ کے پاس پرائز بانڈز موجود ہیں تو اپنی ٹیکس حیثیت اور انعامی رقم پر لاگو ٹیکس کے بارے میں تازہ ترین سرکاری قواعد ضرور چیک کریں،  قوانین یا ٹیکس شرحوں میں تبدیلی کی صورت میں حتمی رقم بھی تبدیل ہوسکتی ہے۔

editor

Related Articles