آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران نے امریکا کے سامنے 6 کڑی شرائط رکھ دیں

آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران نے امریکا کے سامنے 6 کڑی شرائط رکھ دیں

ایران نے آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھولنے کے لیے  امریکا کے سامنے 6 شرائط رکھ دی ہیں، جن میں جنگ کا مستقل خاتمہ، امریکی افواج کا انخلا، پابندیوں کا خاتمہ اور نقصانات کا مکمل ہرجانہ بھی شامل ہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا نے رویہ تبدیل نہ کیا تو آبنائے ہرمز دوبارہ مکمل طور پر نہیں کھولی جائے گی، جبکہ عمان کے ساتھ عارضی بحری راستے کے معاہدے پر پیش رفت جاری ہے۔

دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہونے والی آبنائے ہرمز کی صورتحال نے عالمی تجارت، تیل کی قیمتوں اور خطے میں سفارتی کشیدگی کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔

ایران کی 6 شرائط سامنے آگئیں

ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری محمد باقر ذوالقدر نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بحری آمدورفت کے لیے  کھولنے کا فیصلہ محض کسی عارضی انتظام یا محدود بحری راہداری سے مشروط نہیں، بلکہ اس کے لیے  امریکا کو تہران کے بنیادی مطالبات پورے کرنا ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکہ نے ایران پر حملے شروع کر دئیے ، آبنائے ہرمز کے قریب جھڑپیں،متعدد اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں ،امریکی سینٹرل کمانڈ

ایرانی شرائط کے مطابق امریکا کو کسی بھی وقت اور کسی بھی زبان میں ایران کو دھمکی دینے اور ایرانی قوم کی توہین سے گریز کرنا ہوگا۔

ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف جاری جنگ اور فوجی کارروائیوں کو مستقل طور پر ختم کرنا ہوگا۔

ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کرنا ہوگی اور اس کے اطراف موجود امریکی افواج کو واپس ہٹانا ہوگا۔

جنگ کے دوران ایران کو پہنچنے والے نقصانات کا مکمل ہرجانہ ادا کرنا ہوگا۔

ایران پر عائد پابندیاں ختم کرنا ہوں گی۔

بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثے غیر مشروط طور پر جاری کرنا ہوں گے۔

ایرانی عہدیدار نے اس حوالے سے دوٹوک مؤقف اختیار کیا ہے کہ جب تک امریکا اپنا رویہ تبدیل نہیں کرتا، آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ نہیں کھولا جائے گا۔ ان کے مطابق جنگ ہو یا مذاکرات، ایران اپنے اعلان کردہ مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

عمان کے ساتھ عارضی بحری راستے پر اہم پیش رفت

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی صورتحال کے ایک دوسرے اہم پہلو کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں عارضی جہازرانی کے راستے سے متعلق معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔

تاہم ان کے مطابق عمان کے ساتھ کسی انتظام پر اتفاق کو آبنائے ہرمز کا مکمل اور معمول کے مطابق دوبارہ کھلنا قرار نہیں دیا جا سکتا۔ مکمل بحری آمدورفت کا فیصلہ دیگر سیاسی اور سکیورٹی عوامل سے جڑا ہوا ہے۔

ایرانی مؤقف یہ بھی ہے کہ امریکا کو دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزیوں کا ازالہ کرنا ہوگا۔ تہران کے مطابق موجودہ صورتحال اسی مبینہ خلاف ورزی کا نتیجہ ہے۔

نیا بحری راستہ تیار، مگر مکمل راستہ کھولنے کا فیصلہ باقی

ایرانی حکام کے مطابق مسلح افواج نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محدود آمدورفت کے لیے  نیا راستہ تیار کرلیا ہے۔ اس پیش رفت سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ تہران مکمل بندش اور مکمل بحالی کے درمیان ایک عبوری انتظام کے لیے  گنجائش رکھتا ہے۔

مزید پڑھیں:امریکا کے 4 صدور نے ایران پر حملے کی نیتن یاہو کی درخواست پر کیا ردعمل دیا؟ وائٹ ہاؤس کے سابق چیف نے بڑے انکشافات کردیے

عمان اس معاملے میں اہم ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ حالیہ مذاکرات میں محفوظ بحری آمدورفت کے لیے  مختلف انتظامی فارمولوں پر غور کیا گیا ہے۔

پہلے بھی ایسی تجاویز سامنے آ چکی ہیں جن کے تحت ایران اور عمان کی سمندری حدود میں الگ الگ بحری راستے قائم کرنے پر غور کیا گیا تھا، تاہم ایران آبنائے کے انتظام میں اپنے کردار کو بنیادی اہمیت دیتا رہا ہے۔

اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف جہازوں کے گزرنے کا نہیں بلکہ اس سوال سے بھی جڑا ہے کہ آبنائے میں داخل ہونے اور گزرنے والے بحری جہازوں کی نگرانی اور انتظام کا اختیار کس کے پاس ہوگا۔

آبنائے ہرمز کی اہمیت کیا ہے؟

آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان واقع ایک انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے جو خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔

دنیا کے بڑے خام تیل بردار بحری جہاز بھی اس راستے سے گزر سکتے ہیں، اسی وجہ سے اسے عالمی توانائی کی اہم ترین ‘چوک پوائنٹس’ میں شمار کیا جاتا ہے۔

دستیاب توانائی کے اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں آبنائے ہرمز سے اوسطاً تقریباً 20 ملین بیرل یومیہ تیل گزرا، جو عالمی پٹرولیم مائعات کی کھپت کا تقریباً 20 فیصد بنتا ہے۔

اسی طرح 2024 میں دنیا کی مائع قدرتی گیس کی تجارت کا تقریباً 20 فیصد بھی اسی راستے سے گزرا، جس میں قطر کا کردار نمایاں ہے۔

2026 کی پہلی سہ ماہی میں آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل اوسطاً 14.6 ملین بیرل یومیہ تک گر گئی، جو 2025 کی اسی سہ ماہی کے 20.4 ملین بیرل یومیہ کے مقابلے میں نمایاں کمی ہے۔

عالمی منڈی کے لیے  خطرے کی گھنٹی

آبنائے ہرمز کی مکمل بندش یا محدود آمدورفت کا سب سے فوری اثر عالمی توانائی کی منڈی پر پڑتا ہے۔ تیل اور گیس کی سپلائی میں رکاوٹ سے صرف خلیجی ممالک ہی متاثر نہیں ہوتے بلکہ ایشیا کی بڑی معیشتیں، عالمی شپنگ اور بالآخر دنیا بھر میں ایندھن اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی دباؤ میں آ سکتی ہیں۔

حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز کے معاملے پر کشیدگی بڑھنے کے ساتھ تیل کی قیمتوں میں بھی تیزی دیکھی گئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی منڈی اس بحران کو محض علاقائی تنازع نہیں سمجھ رہی بلکہ اسے عالمی توانائی سلامتی کے لیے  خطرہ تصور کیا جا رہا ہے۔

ایران کا اصل ہدف کیا ہے؟

تازہ صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو ایران کے مطالبات صرف آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق نہیں بلکہ ایک وسیع تر سیاسی اور سیکیورٹی پیکج کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔

تہران ایک طرف عمان کے ذریعے محدود اور عارضی بحری آمدورفت کے لیے  راستہ نکالنے پر آمادہ دکھائی دیتا ہے، جبکہ دوسری طرف امریکا سے ایسے مطالبات کر رہا ہے جن کا تعلق جنگ کے خاتمے، فوجی انخلا، پابندیوں اور مالی نقصانات کے ازالے سے ہے۔

یہ بھی پڑھیں:آبنائے ہرمز بحران ،دنیا کو تیل کی نئی قلت کا سامنا ہو سکتا ہے، آئی ایم ایف کا انتباہ

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو محض بحری گزرگاہ نہیں بلکہ مذاکراتی دباؤ کے ایک اہم ذریعہ کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

یہاں سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ عارضی بحری راستہ اور آبنائے ہرمز کا مکمل کھلنا 2 الگ معاملات بن چکے ہیں۔ اگر عمان کے ساتھ تکنیکی انتظام طے بھی پا جاتا ہے تو اس کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ معمول کی عالمی جہازرانی فوری طور پر بحال ہو جائے گی۔ ایرانی وزیر خارجہ کا حالیہ بیان بھی اسی فرق کو نمایاں کرتا ہے۔

دوسری جانب امریکا کے لیے  ایرانی شرائط قبول کرنا سیاسی اور اسٹرٹیجک طور پر انتہائی مشکل ہوگاا، کیونکہ ان میں صرف بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ نہیں بلکہ امریکی افواج کے انخلا، جنگ کے خاتمے، پابندیوں کے خاتمے اور مالی ہرجانے جیسے بڑے مطالبات شامل ہیں۔

یوں آنے والے دنوں میں اصل سوال یہ نہیں ہوگا کہ ایران آبنائے ہرمز کھولنے پر تیار ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہوگا کہ کیا دونوں فریق ایک ایسے درمیانی راستے پر اتفاق کرسکتے ہیں جس میں محدود بحری آمدورفت بحال ہو، عالمی تجارت کو ریلیف ملے اور ساتھ ہی ایران کو اپنی بنیادی سکیورٹی اور سیاسی ضمانتیں بھی حاصل ہوجائیں۔

بحران کا اگلا مرحلہ

موجودہ حالات میں عمان کی سفارتی کوششیں غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔ اگر عارضی بحری راستے پر اتفاق ہوجاتا ہے تو یہ مکمل حل کے بجائے ایک عبوری قدم ہوگا۔ اس کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان وسیع تر سیاسی سمجھوتے کی ضرورت باقی رہے گی۔

اگر دوسری طرف مذاکرات میں تعطل برقرار رہا اور آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی مزید مؤخر ہوئی تو عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہ سکتی ہے۔ اس کا اثر تیل، گیس، بحری کرایوں، جنگی خطرات کی انشورنس اور درآمدی معیشتوں کی مہنگائی پر پڑنے کا خدشہ موجود رہے گا۔ ایران کی جانب سے 6 شرائط کا اعلان اس بحران کو ایک نئے مرحلے میں لے جا سکتا ہے۔

Related Articles