میٹرو بس سروس 11 اگست سے معطل، وجہ بھی سامنے آگئی

میٹرو بس سروس 11 اگست سے معطل، وجہ بھی سامنے آگئی

لاہور میں لاکھوں شہریوں کی سفری ضرورت بن جانے والی میٹرو بس سروس ایک بار پھر شدید بحران کی لپیٹ میں آچکی ہے۔

پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی اور سروس چلانے والی نجی کمپنی کے درمیان ایندھن کی ادائیگی اور بڑھتے ہوئے اخراجات پر تنازع اس نہج پر پہنچ گیا ہے کہ کمپنی نے 11 اگست سے بسیں بند کرنے کی دھمکی دے دی ہے، جس سے روزانہ سفر کرنے والے مسافروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

2013 کا تاریخی منصوبہ اور موجودہ بحران کی جڑیں

پاکستان کے اس پہلے جدید ماس ٹرانزٹ منصوبے کا آغاز فروری 2013 میں کیا گیا تھا، جب گجوماتہ سے شاہدرہ تک کے طویل روٹ پر میٹرو بسیں سڑکوں پر آئیں۔

ابتدا میں اس منصوبے نے شہریوں کو سفری سہولت فراہم کرنے میں انقلابی کردار ادا کیا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں میں آسمان چھوتی تیزی نے اس کے مالی ماڈل کو ہلا کر رکھ دیا۔

یہ بھی پڑھیں:میٹرو بس سروس کے حوالے سے شہریوں کے لیے اہم خبر سامنے آگئی

موجودہ تنازع کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جب نجی کمپنی نے اس آپریشن کی باگ ڈور سنبھالی تھی، اس وقت ڈیزل کی قیمت لگ بھگ 105 روپے فی لیٹر تھی۔

وقت کے ساتھ ساتھ ایندھن کی قیمتوں میں ہونے والے ہوشربا اضافے نے کمپنی کے تمام مالی وسائل نچوڑ لیے ہیں۔ کمپنی کا مؤقف ہے کہ موجودہ ایندھن کا فارمولا ان کے جملہ اخراجات کا احاطہ کرنے سے قاصر ہے، جس کی وجہ سے انہیں شدید مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

عدالتی احکامات اور فریقین کا سخت مؤقف

اس معاملے پر قانونی جنگ بھی جاری ہے۔ عدالت نے رواں سال 8 جون اور پھر 29 جولائی کو پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کو واضح ہدایات جاری کی تھیں کہ وہ اپنے ذرائع سے ایندھن کی فراہمی کو یقینی بنائے۔

تاہم 6 اگست کو ہونے والے اہم اجلاس میں بھی اس حوالے سے کوئی قابلِ عمل حل سامنے نہیں آ سکا۔ عدالتی حکم نامے پر عمل درآمد نہ ہونے پر نجی کمپنی نے 11 اگست سے سروس معطل کرنے کا حتمی نوٹس جاری کر دیا ہے۔

دوسری جانب، پی ایم اے کے سینیئر حکام نے اس اقدام کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے حکومت پر دباؤ ڈالنے اور بلیک میلنگ کی مذموم کوشش قرار دیا ہے۔

اتھارٹی کا کہنا ہے کہ وہ معاہدے کے مطابق کمپنی کو فی کلومیٹر کے حساب سے بروقت ادائیگی کر رہی ہے۔ پی ایم اے کے مطابق، ایندھن کی قیمتوں میں مزید اضافہ یا عدالتی حکم پر من و عن عمل درآمد صوبائی حکومت کی باقاعدہ منظوری کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

مزید پڑھیں:پنجاب بھر میں میٹرو بسوں کے کرایوں میں 33 فیصد تک اضافہ کر دیا گیا

اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے پی ایم اے نے فیصلے کو متعلقہ عدالت میں چیلنج کرنے اور معاہدے کے تحت ثالث مقرر کرنے کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔

متبادل انتظامات اورعوامی تشویش

مسافروں کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے پی ایم اے نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر نجی کمپنی اپنے فیصلے پر قائم رہتی ہے اور آپریشن معطل کرتی ہے، تب بھی عوامی سہولت کو اولین ترجیح دیتے ہوئے متبادل بسوں کا فوری بندوبست کیا جا رہا ہے تاکہ 11 اگست سے شہریوں کو سفر میں کم سے کم دشواری کا سامنا ہو۔

پالیسی سازی میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے چیلنجز

لاہور میٹرو بس سروس کا یہ تازہ ترین بحران دراصل ہمارے ملک میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ماڈلز کی بنیادی خامیوں کو بے نقاب کرتا ہے۔

جب طویل المدتی معاہدے کیے جاتے ہیں تو ان میں افراط زر، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ اور ناگزی مالی بحران سے نمٹنے کے لیے لچکدار میکانزم کا فقدان ہوتا ہے۔

پی ایم اے اور نجی کمپنی کی یہ رسہ کشی اس بات کا ثبوت ہے کہ فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان کس حد تک بڑھ چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سڑکوں پر زندگی رواں دواں، جڑواں شہروں میں میٹرو بس سروس بحال، تعلیمی ادارے بھی کھل گئے

ایک طرف جہاں کمپنی کے پاس بڑھتے ہوئے اخراجات اور مالی خسارے کی وجہ سے کام جاری رکھنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے، وہیں سرکاری ادارے ریگولیٹری اور بجٹ کی پابندیوں میں جکڑے ہوئے ہیں۔

عدالتی احکامات کی روشنی میں دونوں اداروں کو ضد کی بجائے مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر کوئی پائیدار حل نکالنا چاہیے تھا۔ اگر سروس معطل ہوتی ہے تو اس کا براہ راست نقصان عام غریب مسافر کو اٹھانا پڑے گا جو روزانہ کی بنیاد پر اس سستے اور تیز رفتار سفر پر انحصار کرتا ہے۔

حکومت اور نجی اداروں کو چاہیے کہ وہ اس قسم کے عوامی منصوبوں کو سیاسی یا مالی اکھاڑہ بنانے کے بجائے عوامی خدمت کے جذبے کو مقدم رکھیں۔

Related Articles