سام سنگ نے موبائل فوٹوگرافی کے شوقین افراد کے لیے ایک نیا فلیگ شپ موبائل امیج سینسر متعارف کرا دیا ہے، جو جدید ترین ٹیکنالوجی اور شاندار فیچرز سے لیس ہے۔
یہ نیا سینسر اسمارٹ فونز کے کیمروں میں کم روشنی میں بہتر کارکردگی، شاندار ایچ ڈی آر اور زوم کے دوران لاجواب نتائج فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
موبائل فوٹوگرافی میں میگا پکسل کی جنگ اور سام سنگ کا سفر
موبائل فون انڈسٹری میں گزشتہ چند برسوں سے زیادہ سے زیادہ میگا پکسل اور بہتر سینسرز کے حصول کی ایک طویل جنگ جاری ہے۔
سام سنگ اس میدان میں ہمیشہ پیش پیش رہا ہے اور اس نے اسمارٹ فونز کے لیے ہائی ریزولوشن سینسرز متعارف کرانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ماضی میں بھی کمپنی نے ایسے سینسرز دیے جنہوں نے موبائل کیمرے کی دنیا کا رخ بدل دیا۔
اب اس سلسلے کی اگلی کڑی کے طور پر نیا سینسر پیش کیا گیا ہے جو پچھلی تمام ٹیکنالوجیز کو پیچھے چھوڑنے کا دعویٰ کرتا ہے اور اس بار توجہ صرف پکسلز کی تعداد پر نہیں بلکہ ان کے معیار اور روشنی جذب کرنے کی صلاحیت پر دی گئی ہے۔
ڈیپ پکس ٹیکنالوجی اور روشنی کا نیا نظام
سام سنگ کے اس نئے 200 میگا پکسل کیمرا سینسر کا سائز 1/1.3 انچ ہے جس میں 0.6 مائیکرو میٹر کے پکسلز دیے گئے ہیں۔
اس سینسر کی سب سے بڑی خاصیت اس میں متعارف کرائی جانے والی ڈیپ پکس ٹیکنالوجی ہے، جو انڈسٹری میں پہلی بار لائی گئی ہے اور یہ 16 بٹ راؤ آؤٹ پٹ کو سپورٹ کرتی ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی پرانی نسل کے مقابلے میں کہیں زیادہ روشنی جذب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ڈیپ پکس کی بدولت ہر پکسل حد سے زیادہ روشنی پڑنے سے پہلے زیادہ روشنی اپنے اندر ہولڈ کر سکتا ہے۔
اس کا براہ راست فائدہ یہ ہوگا کہ روشن حصوں میں نکھار آئے گا، سائے والے حصوں میں چھپی ہوئی تفصیلات واضح ہوں گی اور مجموعی ڈائنامک رینج میں حیرت انگیز بہتری آئے گی۔
اس کے علاوہ یہ سینسر 16 بٹ ایچ ڈی آر کو بھی سپورٹ کرتا ہے، جس سے مشکل ترین روشنی کے حالات میں بھی انتہائی صاف اور شور سے پاک تصاویر ملتی ہیں۔
زوم لیولز پر یکساں ایچ ڈی آر اور زوم کا جادو
عموماً جب اسمارٹ فون پر زوم کیا جاتا ہے تو تصویر کا معیار اور ایچ ڈی آر متاثر ہو جاتا ہے، لیکن سام سنگ کا دعویٰ ہے کہ یہ نیا سینسر مختلف ان سینسر زوم لیولز پر بھی ایچ ڈی آر کے معیار کو برقرار رکھنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ سینسر 1x، 1.5x، 2x، 3x اور 4x زوم پر ایچ ڈی آر کو زبردست طریقے سے سپورٹ کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب صارف زوم تبدیل کرے گا تو تصویر کا معیار ایک جیسا اور بہترین رہے گا۔
اس مقصد کے لیے سینسر میں ایک نیا لینز اور لائٹ گائیڈنگ سسٹم بھی شامل کیا گیا ہے جو ہر پکسل پر براہ راست زیادہ روشنی پھینکنے میں مدد کرتا ہے۔
فور کے ویڈیو ریکارڈنگ میں شاندار ترقی
اس سینسر نے صرف تصویر کشی ہی نہیں بلکہ ویڈیوگرافی کے شعبے میں بھی ایک بڑا سنگ میل عبور کیا ہے۔ نیا سینسر فور کے ویڈیو کو 180 فریم فی سیکنڈ کی رفتار سے ریکارڈ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس کی مدد سے اب اسمارٹ فونز کے ذریعے انتہائی ہموار اور شاندار سلو موشن ویڈیوز بنائی جا سکتی ہیں، جو اس سے پہلے موبائل انڈسٹری میں اس پیمانے پر دیکھنا مشکل تھا۔
کیا یہ سینسر موبائل مارکیٹ کا تختہ الٹ دے گا؟
سام سنگ کا یہ نیا 200 میگا پکسل سینسر صرف ایک تکنیکی نمبر نہیں ہے، بلکہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ موبائل فون اب پروفیشنل کیمروں کو کتنی تیزی سے ٹکر دے رہے ہیں۔
ڈیپ پکس ٹیکنالوجی اور 16 بٹ راؤ آؤٹ پٹ کا امتزاج دراصل اس بات کی علامت ہے کہ اب اسمارٹ فونز میں محض میگا پکسلز بڑھانے کا دور ختم ہو چکا ہے اور اب جنگ اصل معیار، سائے اور اجالے کے توازن اور کم روشنی میں بہترین نتائج دینے کی ہے۔
اگر سام سنگ کے یہ دعوے عملی طور پر سچ ثابت ہوتے ہیں تو اس سال لانچ ہونے والے فلیگ شپ اسمارٹ فونز کی دنیا یکسر بدل جائے گی اور صارفین کو جیب میں ایک چھوٹا ڈی ایس ایل آر کیمرا مل جائے گا۔
البتہ، دیکھنا یہ ہوگا کہ مختلف برانڈز اس سینسر کو اپنے فونز میں کیسے آپٹمائز کرتے ہیں، کیونکہ ہارڈ ویئر جتنا بھی شاندار ہو، سافٹ ویئر کی کارکردگی ہی اصل فیصلہ کرتی ہے۔