بیان میں کہا گیا ہے کہ 25 کلوگرام سے زیادہ وزن رکھنے والے بعض ڈرون سسٹمز، بالخصوص تھرمل امیجنگ اور ڈاکنگ اسٹیشن جیسی جدید صلاحیتوں سے لیس آلات، کی درآمد پر 100 فیصد تک ٹیرف لاگو ہوگا۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق چھوٹے ڈرونز کے لیے ٹیرف کی شرح 25 فیصد مقرر کی گئی ہے جبکہ نئے محصولات میں سے بیشتر کا نفاذ 3 ستمبر سے شروع ہوگا۔
امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ ٹیرف عائد کرنے کا مقصد ملک کے اندر ڈرونز اور متعلقہ پرزہ جات کی تیاری کو فروغ دینا اور بیرونی سپلائی چینز پر انحصار کم کرنا ہے۔
پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکا اور چین کے درمیان ڈرونز سمیت ٹیکنالوجی اور تجارت کے معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔ گزشتہ ہفتے چین نے بھی امریکا کو ڈرونز کی برآمدات محدود کرنے کے اقدامات کا اعلان کیا تھا۔
چین کی جانب سے امریکی تجارتی پابندیوں کے ردعمل میں 6 کمپنیوں کو بلیک لسٹ کیے جانے کے بعد یہ امریکی اقدام سامنے آیا ہے۔ واشنگٹن نے چین سمیت دیگر ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرتے ہوئے اپنے تجارتی اور قومی سلامتی سے متعلق تحفظات کو فیصلوں کی بنیاد قرار دیا تھا۔