فوجی اہلکاروں اور پارلیمنٹ سے متعلق بڑے فیصلے ، صدر زرداری کا اہم اعلان

فوجی اہلکاروں اور پارلیمنٹ سے متعلق بڑے فیصلے ، صدر زرداری کا اہم اعلان

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے وزیراعظم کی جانب سے بھجوائی گئی متعدد اہم سمریوں کی منظوری دے دی ہے، جن میں مسلح افواج اور سول آرمڈ فورسز کے اہلکاروں کو فوجی اعزازات، پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اجلاس طلب کرنے، قیدیوں کی سزاؤں میں خصوصی کمی اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کو قومی اعزازات دینے کی منظوری شامل ہے۔

صدرِ مملکت کی جانب سے منظور کی گئی سمری کے مطابق مسلح افواج اور سول آرمڈ فورسز کے مجموعی طور پر ایک ہزار 172 اہلکاروں کو فوجی اعزازات دیے جائیں گے۔ یہ اعزازات اہلکاروں کی نمایاں خدمات، پیشہ ورانہ کارکردگی، بہادری اور قومی ذمہ داریوں کی انجام دہی میں کردار کے اعتراف میں دیے جائیں گے۔

صدرِ مملکت نے 17 اگست کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس طلب کرنے کی بھی منظوری دے دی ہے۔ منظوری کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس شام 5 بجے جبکہ سینیٹ کا اجلاس شام 4 بجے ہوگا۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اجلاس میں اہم قومی، سیاسی اور قانون سازی سے متعلق امور زیر بحث آنے کا امکان ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد پولیس میں افسر بننے کا موقع،بڑی نوکریاں آ گئیں

صدر آصف علی زرداری نے یومِ آزادی اور عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر قیدیوں کے لیے بھی خصوصی رعایت کی منظوری دی ہے۔ اس فیصلے کے تحت اہل قیدیوں کی سزاؤں میں 100 روز کی خصوصی معافی دی جائے گی۔

خصوصی معافی کا اطلاق مقررہ قانونی اور انتظامی قواعد کے تحت اہل قیدیوں پر ہوگا، جبکہ ایسے قیدی جو قانون کے مطابق اس رعایت کے مستحق نہیں ہوں گے، انہیں اس سہولت میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد قومی اور مذہبی مواقع پر قیدیوں کو خصوصی ریلیف فراہم کرنا ہے۔

اس کے علاوہ صدرِ مملکت نے مختلف سول شعبوں سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو قومی اعزازات دینے کی سمری کی بھی منظوری دے دی ہے۔ ان اعزازات کے ذریعے ملک کے مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کی قومی سطح پر حوصلہ افزائی کی جائے گی۔

یوں صدرِ مملکت کی جانب سے منظور کی گئی حالیہ سمریوں میں فوجی اہلکاروں کے لیے اعزازات، پارلیمنٹ کے اجلاس، قیدیوں کے لیے خصوصی سزا معافی اور سول شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کے لیے قومی اعزازات شامل ہیں، جو یومِ آزادی کے موقع پر حکومت کے اہم انتظامی اور قومی فیصلوں کا حصہ ہیں

Qaisar Mirza
editor

Related Articles