ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتے ہیں، امریکی وزیر جنگ

ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتے ہیں، امریکی وزیر جنگ

امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ کا کہنا ہے کہ امریکی فوج کے پاس اتنے وسائل موجود ہیں کہ وہ ایران کی بحری ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتی ہے، ضرورت کے مطابق بحری جہازوں کو خطے میں بھیجا اور واپس بلایا جا سکتا ہے۔

برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے پاناما میں صحافیوں کو بتایا کہ امریکہ اپنے بحری جہازوں کی باری باری تعیناتی کر کے ایران کی بحری ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتا ہے۔

اس سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو کہا تھا کہ امریکا آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھتا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :  آبنائے ہرمز کا مستقل انتظام ،امریکا اور ایران براہِ راست رابطہ چینل قائم کرنے پر متفق ہوگئے 

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری ایک پیغام میں کہا تھا کہ آبنائے ہرمز پر امریکا کا مکمل کنٹرول ہے، میرا خیال ہے کہ ہم اسے برقرار رکھیں گے، ہماری بحری ناکہ بندی کو ہر کوئی ’فولادی دیوار‘ قرار دے رہا ہے، اور ایران اس کے بارے میں کچھ نہیں کر سکتا۔

ہیگستھ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی بحریہ کے طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لِنکن پر گزشتہ 250 روز سے زائد عرصے سے تعینات ہزاروں امریکی فوجی اہلکاروں کے مبینہ طور پر خوراک کی قلت، ذہنی صحت اور شدید تھکن جیسے مسائل کا سامنا کرنے کی خبریں آ رہی ہیں۔

اس حوالے سے امریکی قانون سازوں نے پینٹاگون سے وضاحت طلب کر لی ہے۔

آبنائے ہرمز کی اہمیت کیا ہے؟

آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملانے والی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کے تنگ ترین مقام پر چوڑائی تقریباً 21 ناٹیکل میل ہے، جبکہ اس کے بعض حصے ایران اور عمان کے علاقائی پانیوں میں واقع ہیں۔

قانونی اعتبار سے معاملہ پیچیدہ ہے کیونکہ ساحلی ریاستوں کو اپنے علاقائی پانیوں پر خودمختاری حاصل ہے تاہم آبنائے ہرمز بین الاقوامی بحری تجارت کے لیے استعمال ہونے والا اہم راستہ بھی ہے۔

editor

Related Articles