انگریز اور کانگریس ایک ہی خاندان میں، مگر کیوں؟

انگریز اور کانگریس ایک ہی خاندان میں، مگر کیوں؟

نام کسی بھی انسان کی شناخت اور پہچان کا اہم حصہ ہوتا ہے، لیکن بھارت کی ریاست بہار میں ایک ایسا خاندان بھی آباد ہے جس کے افراد کے نام سن کر پہلی بار یقین کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔

بھوپ نگر گاؤں سے تعلق رکھنے والے اس خاندان کے مختلف افراد کے نام ’ودیشی‘، ’انگریز‘، ’کانگریس‘، ’پنجابی‘، ’گلاٹی‘ اور ’پردیسی‘ ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ صرف گھریلو یا عرفی نام نہیں بلکہ خاندان کے کئی افراد کے سرکاری شناختی کاغذات، آدھار کارڈ اور راشن کارڈ سمیت دیگر دستاویزات میں بھی یہی نام درج ہیں۔

ان ناموں کے پیچھے موجود کہانیاں بھی اتنی ہی دلچسپ ہیں۔ خاندان کے افراد کے مطابق کئی دہائیاں قبل ان کے بزرگ دیہی اور دور دراز علاقوں میں زندگی گزارتے تھے، جہاں نام رکھنے کے انداز بھی آج کے مقابلے میں خاصے مختلف تھے۔

یہ بھی پڑھیں:اچانک آکٹوپس نے مچھیرے کا چہرہ جکڑ لیا، آگے جو ہوا وہ حیران کن تھا

ودیشی نام کیسے رکھا گیا؟

خاندان کے سربراہ ودیشی مانجھی اب اس دنیا میں موجود نہیں، تاہم ان کے نام کی کہانی آج بھی خاندان میں بیان کی جاتی ہے۔ خاندان کے مطابق آزادی کی جدوجہد کے دور میں ان کے والد نے انگریزوں کے لیے استعمال ہونے والے لفظ  ودیشی سے متاثر ہوکر اپنے بیٹے کا نام ودیشی رکھ دیا تھا۔یوں یہ نام نسلوں بعد بھی خاندان کی شناخت کا حصہ بنا ہوا ہے۔

بچپن کی حرکت نے ’گلاٹی‘ بنا دیا

ودیشی مانجھی کے بھائی، جو تقریباً 80 برس کے ہیں، کا نام ’گلاٹی‘ ہے۔ ان کے مطابق بچپن میں وہ زمین پر سانپ کی طرح گلاٹیاں مارا کرتے تھے۔ خاندان کے بزرگوں نے ان کی اسی عادت کو دیکھتے ہوئے ان کا نام ہی ’گلاٹی‘رکھ دیا۔ یہ نام بعد میں ان کی باقاعدہ شناخت بن گیا اور آج بھی ان کے سرکاری کاغذات میں یہی نام موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایئرپورٹ پر 1 گھنٹے کی تاخیر، وجہ سامنے آئی تو مسافر بھی ہنس پڑے

والد پردیس میں تھے، بیٹے کا نام ’پردیسی‘ رکھ دیا

خاندان کے ایک فرد کا نام ’پردیسی‘ ہے، جو ودیشی مانجھی کے بڑے بیٹے ہیں۔ خاندان کے مطابق ان کی پیدائش سے2 یا 3 ماہ قبل ان کے والد مزدوری کے لیے دوسرے صوبے چلے گئے تھے۔ بچے کی پیدائش کے بعد خاندان کے افراد کسی نام پر متفق نہیں ہو رہے تھے۔ اسی دوران علاقے کے ایک بزرگ نے مشورہ دیا کہ بچے کا والد پردیس میں ہے، اس لیے بچے کا نام ’’پردیسی‘‘ رکھ دیا جائے۔ یوں ایک عارضی صورتحال نے ہمیشہ کے لیے بچے کی شناخت بدل دی۔

ہیڈ ماسٹر کی بات سے ’انگریز‘ نام پڑ گیا

ودیشی مانجھی کے دوسرے بیٹے کا نام ’انگری‘ہے اور اس نام کی کہانی بھی خاصی دلچسپ ہے۔ جب بچے کو اسکول میں داخل کرانے کا وقت آیا تو ودیشی اسے لے کر اسکول پہنچے۔ ہیڈ ماسٹر نے بچے کا نام پوچھا تو والد نے جواب دیا کہ آپ کوئی اچھا نام رکھ دیں۔ ہیڈ ماسٹر نے تعلیم کی اہمیت سمجھانے کے لیے انگریزوں کی مثال دی اور بتایا کہ انگریز بہت تعلیم یافتہ ہوتے ہیں۔ یہ بات ودیشی کو اتنی پسند آئی کہ انہوں نے اپنے بیٹے کا نام ہی ’انگریز‘رکھ دیا۔

یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کے خفیہ بٹن کا راز کیا ہے؟ حقیقت سامنے آگئی

تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ ’انگریز‘ نام رکھنے کے باوجود وہ زیادہ تعلیم حاصل نہ کرسکے اور پانچویں جماعت کے بعد مزدوری شروع کردی۔ گاؤں کے لوگ آج بھی کبھی کبھار ان سے مذاق کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’انگریز چلے گئے، تم رہ گئے؟‘ تاہم وہ اس مذاق کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیتے۔

سیاسی ماحول نے’کانگریس‘نام دے دیا

خاندان کے 28 سالہ فرد کا نام ’کانگریس‘ ہے، لیکن وہ کسی سیاسی جماعت کے کارکن نہیں۔ خاندان کے مطابق جب کانگریس کی پیدائش ہونے والی تھی تو اس علاقے میں بھارت کی بڑی سیاسی جماعت کانگریس کے رہنما انتخابی مہم کے سلسلے میں آئے ہوئے تھے۔ بچے کے والد اس سیاسی سرگرمی سے متاثر ہوئے اور انہوں نے اپنے بیٹے کا نام ہی’کانگریس‘رکھ دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کانگریس کے تمام سرکاری شناختی دستاویزات میں بھی یہی نام درج ہے۔

پنجاب سے تعلق نے نام ’پنجابی‘ کردیا

خاندان کے ایک اور فرد کا نام ’پنجابی مانجھی‘ ہے۔ خاندان میں بتایا جاتا ہے کہ ان کے والد نے کبھی پنجاب میں مزدوری کی تھی۔ اسی نسبت سے بچے کا نام پنجابی رکھ دیا گیا۔ اگرچہ اس نام کی مکمل وجہ خاندان کے افراد کو بھی معلوم نہیں، تاہم ’’پنجابی‘‘ نام کئی برسوں سے ان کی شناخت کا حصہ بنا ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:جڑواں بہنوں نے لاہور بورڈ میں دھوم مچا دی، نمبر بھی ایک اور کامیابی بھی شاندار

منفرد ناموں کی دلچسپ روایت

اس خاندان کے منفرد نام بظاہر مذاق کا باعث بن سکتے ہیں، لیکن ان کے پیچھے دراصل کئی دہائیاں پرانی خاندانی، سماجی اور مقامی کہانیاں چھپی ہوئی ہیں۔ کسی کا نام بچپن کی عادت سے جڑا ہے، کسی کا والد کی غیر موجودگی سے، کسی کا سیاسی ماحول سے اور کسی کا تعلیم کے حوالے سے ایک گفتگو سے۔

آج کے دور میں جہاں والدین بچوں کے نام رکھنے کے لیے باقاعدہ تحقیق کرتے ہیں، وہیں بہار کے اس خاندان کی کہانیاں بتاتی ہیں کہ ماضی میں بعض اوقات روزمرہ زندگی کا ایک معمولی واقعہ بھی کسی بچے کی پوری زندگی کے نام کا حصہ بن جاتا تھا۔ اور یہی وجہ ہے کہ’انگریز‘، کانگریس‘، پنجابی، پردیسی اور گلاٹی جیسے نام آج بھی اس خاندان کو دوسروں سے منفرد بناتے ہیں۔

editor

Related Articles