افغان طالبان کی جانب سے ایک بھارتی ٹریول یوٹیوبر کو خصوصی سکیورٹی میں پاکستان کی سرحد تک پہنچانے اور حساس نوعیت کے مقامات تک رسائی دینے کا معاملہ سامنے آنے کے بعد ’’را‘‘ اور طالبان کے باہمی روابط کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ بھارتی یوٹیوبر نے سرحدی علاقے میں موجود پاکستانی سکیورٹی پوسٹس کی ویڈیوز بھی بنائیں جس سے واضح ہوگیا کہ یہ ’’ را‘‘ کا پالتو یوٹیوبر ہے۔
بھارتی یوٹیوبر کو طالبان کی خصوصی سکیورٹی میں ایسے علاقوں تک لے جایا گیا جہاں سے پاکستانی سرحدی پوسٹس واضح طور پر دیکھی اور فلمائی جاسکتی تھیں۔ پاکستانی چوکیوں اور سرحدی تنصیبات کی فلم بندی نے اس سوال کو مزید سنگین کردیا ہے کہ ایک بھارتی شہری کو افغانستان کے حساس سرحدی علاقے میں اس قدر آزادی اور سہولت کس بنیاد پر فراہم کی گئی؟
سیاحت کے نام پر پاکستان مخالف مہم
بھارت سے افغانستان پہنچنے والا یہ نام نہاد ٹریول ویلاگر افغانستان میں سیاحت کے نام پر ویڈیوز بنا رہا ہے، تاہم اس کے مواد میں پاکستان اور پاکستانی سکیورٹی کو غیر معمولی طور پر نمایاں کیا جارہا ہے، ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ اگر مقصد صرف ٹریول ویلاگنگ تھا تو پاکستانی سرحد اور سکیورٹی پوسٹس پر اتنی توجہ کیوں دی گئی؟
اس سرگرمی نے’’ را‘‘کے کردار کے حوالے سے بھی شدید سوالات پیدا کیے ہیں بھارتی خفیہ ایجنسی’’ را‘‘ پہلے بھی پاکستان مخالف سرگرمیوں اور خفیہ کارروائیوں میں ملوث رہی ہے، جبکہ موجودہ معاملے میں ایک بھارتی یوٹیوبر کو طالبان کی سکیورٹی میں پاکستانی سرحد کے قریب لے جانا گٹھ جوڑ کو مکمل طور پر بے نقاب کرتا ہے ۔
’’ را‘‘ کا یوٹیوبر، طالبان کا پروٹوکول
ٹریول ویلاگنگ کا لبادہ اوڑھ کر افغانستان پہنچنے والے بھارتی یوٹیوبر کو طالبان کی جانب سے جس نوعیت کی سکیورٹی اور رسائی فراہم کی گئی، اس نے معاملے کو مزید واضح کردیا ہے۔ ایک طرف طالبان پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے دعوے کرتے ہیں، دوسری جانب ایک بھارتی شہری کو پاکستانی سرحدی پوسٹس تک لے جا کر فلم بندی کی سہولت فراہم کرنا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
یہ صورتحال اس تاثر کو تقویت دیتی ہے کہ افغانستان میں بھارتی اثر و رسوخ کے لیے مختلف راستے استعمال کیے جارہے ہیں اور ٹریول ویلاگنگ جیسے پلیٹ فارم کو بھی پاکستان کے خلاف بیانیہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
طالبان کی سہولت کاری کیوں؟
سب سے بڑا سوال طالبان کی جانب سے فراہم کی جانے والی خصوصی سہولت کاری پر ہے، اگر ایک غیر ملکی شہری کو پاکستان سے ملحقہ حساس علاقوں میں لے جایا گیا اور اسے پاکستانی سکیورٹی پوسٹس کی فلم بندی کا موقع ملا تو اس کی اجازت کس سطح پر دی گئی؟
پاکستان اور افغانستان کے درمیان پہلے ہی سرحدی کشیدگی، دہشت گردی اور ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں کے حوالے سے شدید اختلافات موجود ہیں پاکستان متعدد مرتبہ افغانستان سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دی جائے۔
پاکستان مخالف سرگرمیوں پر تشویش
پاکستان میں یہ خدشات مسلسل موجود رہے ہیں کہ افغانستان کی سرزمین سے ٹی ٹی پی سمیت دہشت گرد گروہ پاکستان میں کارروائیوں کے لیے سہولت حاصل کرتے ہیں۔ ایسے ماحول میں بھارتی شہری کو پاکستانی سرحدی تنصیبات کے قریب پہنچانے اور وہاں فلم بندی کی اجازت دینے کا معاملہ معمولی نہیں سمجھا جاسکتا۔
سرحدی سکیورٹی پر بڑا سوال
واقعے کے بعد بنیادی سوال یہی ہے کہ طالبان نے بھارتی یوٹیوبر کو پاکستان کی سرحد تک خصوصی سکیورٹی میں پہنچنے، حساس مقامات دیکھنے اور پاکستانی پوسٹس کی فلم بندی کرنے کی اجازت کیوں دی؟ اگر یہ سب محض ٹریول ویلاگنگ تھی تو سرحدی سکیورٹی اور پاکستانی چوکیوں کو فوکس کرنے کی ضرورت کیا تھی؟
یہ معاملہ پاکستان کی سرحدی سکیورٹی کے لیے بھی اہم ہے، کیونکہ حساس تنصیبات اور سرحدی پوسٹس کی غیر معمولی فلم بندی مستقبل میں کسی بھی مخالف قوت کے لیے معلومات اکٹھی کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتی یوٹیوبر کے افغانستان دورے، طالبان کی سہولت کاری اور پاکستان مخالف مواد کو ایک ساتھ دیکھنے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ’’ را‘‘اپنے پالتویوٹیوبر کوپاکستان مخالف مہم کیلئے استعمال کر رہی ہے ۔