مہنگائی، بجلی کے بل اور پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کا احتجاج

مہنگائی، بجلی کے بل اور پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کا احتجاج

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان کی کال پر بڑھتی ہوئی مہنگائی، بجلی کے بھاری بلوں، پٹرولیم لیوی اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف چاروں صوبوں میں بیک وقت احتجاجی دھرنے دئیے جارہے ہیں،

منصورہ لاہور میں مرکزی قیادت کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی عوام کو درپیش معاشی مشکلات کے خلاف اپنی تحریک جاری رکھے گی اور ملک بھر میں احتجاجی دھرنوں کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔

لیوی وصولی پر حکومت کو تنقید

حافظ نعیم الرحمان نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پٹرولیم لیوی کی مد میں آئی ایم ایف کے طے کردہ ہدف سے بھی زیادہ رقم وصول کی گئی ہے۔ ان کے مطابق عوام پر اضافی مالی بوجھ ڈالنے کے باوجود ملکی ریفائنریوں کی حالت بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ملک میں مخصوص طبقے کو سالانہ اربوں ڈالر کی مراعات دی جاتی ہیں جبکہ عام شہری مختلف اقسام کے ٹیکسوں کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اشرافیہ کو حاصل مراعات کا بھی ازسرنو جائزہ لیا جانا چاہیے۔

حکومتی اخراجات کم کرنے کا مطالبہ

حافظ نعیم الرحمان نے حکومتی اخراجات پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ سرکاری اخراجات کا بوجھ بالآخر عوام ہی کو برداشت کرنا پڑتا ہے،انہوں نے سرکاری افسران کے زیر استعمال بڑی گاڑیوں کو ختم کرکے انہیں 1300 سی سی گاڑیوں تک محدود کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکمران طبقے اور اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کے اخراجات میں کمی کیے بغیر عام آدمی پر مالی بوجھ کم نہیں کیا جاسکتا۔

آئی پی پیز پر بھی شدید تنقید

امیر جماعت اسلامی نے بجلی کے شعبے میں آئی پی پیز کے معاہدوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں کو بجلی پیدا نہ کرنے کے باوجود کیپسیٹی پیمنٹس کی مد میں بھاری رقوم ادا کی جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :جماعت اسلامی کا 7 اگست کو ملک گیر احتجاج کا اعلان، پیٹرول 225 روپے پر لانے کا مطالبہ

حافظ نعیم الرحمان کے مطابق ملک میں بجلی کی دستیابی کے باوجود پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں لوڈشیڈنگ جاری ہے، جو ایک سنجیدہ مسئلہ ہے،انہوں نے دعویٰ کیا کہ جماعت اسلامی کی احتجاجی تحریک کے نتیجے میں عوام کو بجلی کے بلوں میں کچھ ریلیف حاصل ہوا۔

تعلیم اور صحت میں مساوات کا مطالبہ

حافظ نعیم الرحمان نے تعلیم اور صحت کے شعبوں کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا، ان کا کہنا تھا کہ تعلیم مختلف طبقات میں تقسیم ہوچکی ہے، جہاں معاشی حیثیت کے مطابق سہولیات دستیاب ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو مفت اور معیاری تعلیم اور علاج کی سہولت فراہم کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس مقصد کے لیے مؤثر اقدامات کیے جانے چاہئیں۔

نوجوانوں کے لیے روزگار کا بحران

امیر جماعت اسلامی نے نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کو بھی اہم مسئلہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شہروں میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے مناسب روزگار کے مواقع موجود نہیں، جس کے باعث بڑی تعداد میں نوجوان بہتر مستقبل کی تلاش میں بیرون ملک جانے پر مجبور ہیں۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے، مہنگائی کم کرنے اور عام شہری کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے مؤثر معاشی پالیسی اختیار کی جائے۔

عوامی مسائل پر تحریک جاری رکھنے کا اعلان

حافظ نعیم الرحمان نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی مہنگائی، بجلی کے بھاری بلوں، پٹرولیم لیوی اور دیگر عوامی مسائل کے خلاف اپنی احتجاجی تحریک جاری رکھے گی۔ ان کے مطابق چاروں صوبوں میں بیک وقت دھرنوں کا مقصد حکومت پر دباؤ بڑھانا اور عوامی مطالبات منوانا ہے۔

editor

Related Articles