پاکستانی ڈویلپر راحیل صدیقی نے آسک پاکستان کے نام سے ایک آزاد اے آئی پلیٹ فارم متعارف کرا دیا ہے، جہاں صارفین ایک ہی جگہ پر سرکاری اداروں اور حکومتی خدمات سے متعلق معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔
یہ پلیٹ فارم صارفین کو روایتی سرچ کے بجائے گفتگو کے انداز میں سوال پوچھنے کی سہولت دیتا ہے۔ صارفین انگریزی، اردو یا رومن اردو میں شناختی کارڈ، پاسپورٹ، ٹیکس، سرکاری ملازمتوں، تعلیم اور سماجی معاونت سمیت مختلف معاملات سے متعلق سوالات کرسکتے ہیں۔
معلومات سرکاری ویب سائٹس سے حاصل ہوں گی
آسک پاکستان کے مطابق پلیٹ فارم کے جوابات صرف سرکاری ویب سائٹس سے حاصل کی جانے والی معلومات پر مبنی ہوتے ہیں۔ صارف کو جواب کے ساتھ متعلقہ سرکاری ذریعے کی معلومات بھی فراہم کی جاتی ہیں، تاکہ وہ اصل ویب سائٹ پر جاکر مزید تفصیلات اور ضروری کارروائی دیکھ سکے۔
پلیٹ فارم کا کہنا ہے کہ اگر کسی سوال کا جواب دستیاب سرکاری ذرائع میں موجود نہ ہو تو سسٹم خود سے معلومات گھڑنے کے بجائے صارف کو اس بارے میں آگاہ کرے گا۔
آسک پاکستان کی موجودہ ڈائریکٹری میں 212 وفاقی، صوبائی اور ریگولیٹری ویب سائٹس شامل ہیں، جن میں نادرا، ایف بی آر، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، ہائر ایجوکیشن کمیشن، ایف پی ایس سی، پی ٹی اے، صوبائی حکومتیں، پولیس، یوٹیلیٹی ادارے اور عدالتیں شامل ہیں۔ پلیٹ فارم کے ہوم پیج کے مطابق اس وقت 5 ہزار سے زیادہ سرکاری صفحات اس کے سرچ سسٹم میں شامل ہیں۔
صارفین کی پرائیویسی کیلئے کیا اقدامات کیے گئے؟
آسک پاکستان کے مطابق صارف کی ذاتی معلومات کو محفوظ رکھنے کے لیے براؤزر کی سطح پر حساس معلومات ہٹانے کا نظام موجود ہے۔ اس میں شناختی کارڈ نمبر، فون نمبر، ای میل، پاسپورٹ نمبر اور بینک اکاؤنٹ نمبرز شامل ہیں۔ پلیٹ فارم کا کہنا ہے کہ وہ صارفین کی گفتگو کی مکمل ہسٹری محفوظ نہیں کرتا اور سوالات کو کسی مخصوص صارف کی شناخت سے منسلک نہیں کیا جاتا۔
کچھ سوالات اور جوابات ذاتی معلومات ہٹانے کے بعد تقریباً ایک دن تک عارضی طور پر کیش ہوسکتے ہیں۔ آسک پاکستان میں وائس سرچ کی سہولت بھی موجود ہے۔ پلیٹ فارم کے مطابق آواز کی ریکارڈنگ کو تحریری شکل دینے کے لیے گوگل کی جیمنائی اسپیچ سروس استعمال ہوتی ہے اور آسک پاکستان خود ان ریکارڈنگز کو محفوظ نہیں کرتا۔
اہم بات یہ ہے کہ آسک پاکستان حکومت پاکستان کا سرکاری پلیٹ فارم نہیں ہے۔ یہ ایک آزاد منصوبہ ہے اور فی الحال صارف کی جانب سے کسی سرکاری ادارے میں درخواست جمع نہیں کراسکتا، ذاتی سرکاری ریکارڈ تک رسائی حاصل نہیں کرسکتا اور نہ ہی کسی سرکاری لین دین کو صارف کی جانب سے مکمل کرسکتا ہے۔ پلیٹ فارم خود بھی صارفین کو مشورہ دیتا ہے کہ فیس، آخری تاریخ یا دیگر تبدیل ہونے والی معلومات کے لیے متعلقہ سرکاری ویب سائٹ سے تصدیق ضرور کریں۔
مستقبل میں کیا ہوگا؟
اس منصوبے کے بانی راحیل صدیقی کے مطابق مستقبل میں اے آئی کو صرف معلومات فراہم کرنے تک محدود رکھنے کے بجائے اسے سرکاری خدمات کے حصول میں مدد دینے کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
مثلاً اےآئی صارفین کے لیے فارم پُر کرنے، اپوائنٹمنٹ لینے یا درخواست کی صورتحال معلوم کرنے میں مدد کرسکتا ہے۔تاہم اس کے لیے سرکاری اداروں کے اے پی آئیز اور محفوظ سسٹمز تک رسائی درکار ہوگی، جو اس آزاد منصوبے کو فی الحال حاصل نہیں ہے۔