کبوتروں میں ایک حیرت انگیز قدرتی صلاحیت موجود ہوتی ہے جس کی مدد سے وہ ہزاروں میل دور سے بھی اپنے گھر یا گھونسلے کا راستہ تلاش کر سکتے ہیں۔
سائنس کے مطابق کبوتروں کی اس غیر معمولی صلاحیت میں زمین کے مقناطیسی میدان کو محسوس کرنے کا اہم کردار ہے۔ اس حسی نظام کو میگنیٹو ریسپشن کہا جاتا ہے، جو ان کے لیے ایک قدرتی قطب نما کی طرح کام کرتا ہے۔
جب کسی کبوتر کو کسی انجان اور دور دراز مقام پر چھوڑا جاتا ہے تو وہ اپنے جسم میں موجود مخصوص حسی نظام کی مدد سے زمین کے مقناطیسی میدان کا اندازہ لگاتا ہے اور گھر کی سمت کا تعین کرکے پرواز شروع کردیتا ہے۔
تحقیقات کے مطابق کبوتروں کی نیویگیشن میں جسم کے مختلف حصے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان میں مقناطیسی ذرات اور آنکھوں میں موجود مخصوص پروٹین کا ذکر کیا جاتا ہے۔
کبوتر کی آنکھوں میں موجود کرپٹو کروم نامی پروٹین کے بارے میں سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہ مقناطیسی میدان کو محسوس کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔اسی طرح ان کے جسم میں موجود آئرن سے متعلق ذرات بھی زمین کے مقناطیسی میدان کو محسوس کرنے کے عمل میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
صرف مقناطیسی میدان ہی مددگار نہیں
کبوتروں کی راستہ تلاش کرنے کی صلاحیت صرف مقناطیسی حس تک محدود نہیں۔ وہ سورج کی پوزیشن، زمین کے نمایاں جغرافیائی مقامات اور مختلف خوشبوؤں کو بھی راستہ پہچاننے کیلئے استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ تمام حسی معلومات مل کر کبوتر کو اس قابل بناتی ہیں کہ وہ طویل فاصلے طے کرنے کے باوجود اپنے گھر کا راستہ تلاش کرسکے۔
اسی غیر معمولی صلاحیت کی وجہ سے کبوتر صدیوں سے پیغام رسانی کیلئے استعمال ہوتے رہے ہیں اور آج بھی ان کی قدرتی نیویگیشن سائنس دانوں کیلئے دلچسپی کا موضوع ہے