امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے سابق صدر نکولس مادورو کے خلاف کارروائی سے چند ہفتے قبل ایلون مسک کے اےآئی چیٹ بوٹ گروک سے وینزویلا سے متعلق سوالات کیے تھے۔
امریکی میگزین ٹائم کی رپورٹ کے مطابق یہ معاملہ دسمبر 2025 میں ڈونلڈ ٹرمپ اور ایلون مسک کے درمیان ہونے والی ایک نجی ملاقات کے دوران سامنے آیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے کئی گھنٹوں تک گروک سے مختلف موضوعات پر سوالات کیے، جن میں وینزویلا بھی شامل تھا۔
ٹرمپ نے گروک سے کیا پوچھا؟
ٹائم کے مطابق ٹرمپ نے گروک سے یہ سوال بھی کیا کہ اگر امریکا نکولس مادورو کو گرفتار کرلے تو وینزویلا کے عوام کا ردعمل کیا ہوگا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق گروک نے جواب دیا کہ مادورو وینزویلا میں انتہائی غیر مقبول ہیں اور ممکن ہے کہ بہت سے وینزویلا کے شہری ان کی گرفتاری یا اقتدار سے ہٹائے جانے پر خوشی کا اظہار کریں۔
اس ملاقات کے وقت امریکا اور وینزویلا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا تھا۔ امریکی انتظامیہ اس دوران منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیے گئے بعض کشتیوں کے خلاف فوجی کارروائیاں بھی کر رہی تھی۔
چند ہفتے بعد مادورو گرفتار
رپورٹ کے مطابق امریکی فورسز نے 3 جنوری 2026 کو نکولس مادورو کو گرفتار کیا۔ اس کے بعد وینزویلا اور بیرون ملک موجود بعض وینزویلا کے شہریوں کی جانب سے جشن منانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ ٹائم کے مطابق ٹرمپ گروک کے جواب سے متاثر ہوئے اور انہیں چیٹ بوٹ کا تجزیہ مفید لگا۔
تاہم رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ایسی کوئی عوامی شہادت موجود نہیں جس سے یہ ثابت ہو کہ گروک نے خود ٹرمپ کو فوجی کارروائی کا فیصلہ کرنے پر مجبور کیا یا آپریشن کا فیصلہ اسی کی بنیاد پر کیا گیا۔ میڈیا رپورٹنگ سے صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ ٹرمپ نے کارروائی سے پہلے اے آئی چیٹ بوٹ سے رائے لی اور اس کے جواب کو قابلِ غور سمجھا۔