آپریشن سندور کے حوالے سے سامنے آنے والی ایک بھارتی دستاویزی فلم میں کیے گئے دعووں اور بیانات کے جواب میں مختلف بھارتی عہدیداروں اور شخصیات کے اپنے ہی بیانات پر مبنی مواد نے فلم کے بیانیے پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
دستاویزی فلم میں ایک طرف جنگ کی صورت میں تیار ہونے، بھارتی فضائی کارروائی اور آپریشن کی کامیابی کے دعوے کیے گئے، جبکہ دوسری جانب بھارتی طیاروں کے نقصان اور مختلف فضائی اڈوں پر نقصان کا اعتراف بھی سامنے آتا ہے۔
دستاویزی فلم میں دیکھا گیا ہے کہ نریندر مودی ایک بیان میں کہا گیا کہ اگر یہ لڑائی جنگ میں تبدیل ہوتی ہے تو بھی بھارت تیار ہے، جبکہ ایک اور موقع پر بار بار جھوٹ بولنے کی بات کی گئی۔ جبکہ اسی دوران بھارتی وزیر کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ اصل اہمیت اس بات کی نہیں کہ طیارہ گرایا گیا، بلکہ اس بات کی ہے کہ اسے کیوں گرایا گیا۔
فلم میں ایک بیان کے مطابق کہا گیا کہ اس معاملے کو ایک اچھی فلم کی طرح سامنے لایا جائے گا، جس کے جواب میں طنزیہ انداز میں سوال کیا گیا کہ ’’اس سجن کو کیا تکلیف ہے بھائی؟‘‘
دستاویزی فلم میں بھارتی جانب سے یہ اعتراف بھی شامل ہے کہ کچھ طیارے ضائع ہوئے اور ایسا سیاسی قیادت کی جانب سے عائد پابندی کے باعث ہوا۔ ایک اور بیان میں کہا گیا کہ آپریشن سندور کے دوران بھارت کو جو شکست ہوئی ہے، اسے بھولنا آسان نہیں ہوگا، جبکہ اسی تناظر میں یہ بھی کہا گیا کہ منافقت کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔
بھارتی بیان میں مزید کہا گیا کہ بھارت ایک جنگی صورتحال میں تھا اور جنگ کے دوران نقصانات کا ہونا اس کا حصہ ہے۔ اسی طرح بتایا گیا کہ بھارتی فضائیہ فضا میں نگرانی کر رہی تھی تاکہ کوئی پاکستانی طیارہ اس طرف نہ آسکے، حتیٰ کہ اس حد تک بھی نہیں جہاں سے وہ اپنی حدود میں رہتے ہوئے بھارتی جانب بم گرا سکے۔
دستاویزی فلم میں بھارتی حزب اختلاف کے رہنما کے حوالے سے بھی سوال اٹھایا گیا کہ کتنے بھارتی طیارے گرائے گئے۔ جواب میں پانچ طیاروں کے گرنے کا ذکر کیا گیا اور یہ بیان بھی سامنے آیا کہ پاکستان میں بھارتی طیارے گرائے گئے۔
فلم میں بھارتی خارجہ سیکریٹری وکرم مسری کی سات تاریخ کو ہونے والی مشترکہ پریس بریفنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ مسلح افواج کی جانب سے دو خواتین افسران کو بھیجا گیا تھا اور اس کے ذریعے دو اہم پیغامات دیے گئے۔ تاہم اسی مواد میں ایک طنزیہ جملہ بھی شامل ہے کہ ’’مزہ نہیں آ رہا ہے۔‘‘
بھارتی مسلح افواج کے حوالے سے یہ بیان بھی شامل کیا گیا کہ وہ کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتیں۔ ساتھ ہی یہ کہا گیا کہ تمام منصوبہ بندی اور احکامات دینے کے بعد میدان میں موجود افراد پر اعتماد کیا جانا چاہیے۔
دستاویزی فلم میں بھارتی فضائیہ کے مختلف اسٹیشنز کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ اودھم پور، پٹھان کوٹ، آدم پور، بھج اور بٹھنڈہ اسٹیشنز سمیت مختلف فضائی اڈوں پر آلات اور اہلکاروں کو نقصان پہنچایا گیا۔
ایک اور بیان میں کہا گیا کہ ان مشنز کو اپنے لوگوں کو محفوظ رکھتے ہوئے انجام دیا جائے گا۔ فلم میں ’’واہ! کیا سین ہے ‘‘ جیسے طنزیہ جملے بھی شامل کیے گئے ہیں۔