ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی کی عدالت نے ڈرگ ڈیلر انمول عرف پنکی کے خلاف قتل بالسبب کے مقدمے میں فرد جرم عائد کردی ہے۔ ملزمہ نے عدالت میں عائد کیے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے صحت جرم سے انکار کردیا جس کے بعد عدالت نے مقدمے کے گواہان کو طلب کرلیا۔
مقدمے کی سماعت کے دوران انمول عرف پنکی ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئی۔ عدالت نے مقدمے میں ملزمہ پر فرد جرم عائد کی اور الزامات پڑھ کر سنائے۔ ملزمہ نے فرد جرم کا جواب دیتے ہوئے خود کو بے گناہ قرار دیا اور مؤقف اختیار کیا کہ اس کے خلاف جھوٹا مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔
ملزمہ کی جانب سے جرم قبول نہ کیے جانے کے بعد مقدمے کی کارروائی باقاعدہ طور پر ٹرائل کے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ عدالت نے استغاثہ کے گواہان کو آئندہ سماعت پر طلب کرتے ہوئے انہیں اپنے بیانات اور شواہد پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
قانونی طور پر فرد جرم عائد ہونا کسی ملزم کو مجرم قرار دینے کے مترادف نہیں ہوتا بلکہ اس کے بعد عدالت میں استغاثہ کو اپنے الزامات شواہد اور گواہان کے بیانات کے ذریعے ثابت کرنا ہوتا ہے۔ دوسری جانب ملزمہ کو بھی اپنے دفاع کا مکمل قانونی حق حاصل ہوگا۔
مقدمے کی آئندہ سماعت میں استغاثہ کے گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ گواہان کے بیانات اور پیش کیے جانے والے دیگر شواہد کی روشنی میں عدالت مقدمے کی کارروائی آگے بڑھائے گی۔
واضح رہے کہ انمول عرف پنکی کے خلاف درج مقدمے میں قتل بالسبب کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ملزمہ ان الزامات کی تردید کرچکی ہے اور عدالت کے سامنے خود کو بے گناہ قرار دے چکی ہے۔ مقدمے کا حتمی فیصلہ ٹرائل مکمل ہونے اور تمام شواہد کا جائزہ لینے کے بعد ہی سامنے آئے