تالی دونوں ہاتھوں سے بچتی ہے، اپوزیشن کو بات چیت شروع کرنے کی دعوت دیتا ہوں، وزیر اعظم شہباز شریف

تالی دونوں ہاتھوں سے بچتی ہے، اپوزیشن کو بات چیت شروع کرنے کی دعوت دیتا ہوں، وزیر اعظم شہباز شریف

وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں سیاسی ڈیڈلاک ختم کرنے کے لیے اپوزیشن کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے عام آدمی کو بڑا ریلیف فراہم کرنے کے لیے اہم اقدامات کا اعلان کر دیا ہے۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا کہ حکومت مشکل معاشی حالات کے باوجود عوام کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے دن رات کوشاں ہے۔ ملک کے موجودہ سیاسی اور معاشی منظر نامے میں وزیراعظم شہباز شریف کا یہ بیان انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

وزیراعظم نے معاشی چیلنجز پر بات کرتے ہوئے کہا کہ عالمی منڈی کی صورتحال کے اثرات براہ راست پاکستان پر بھی مرتب ہو رہے ہیں اور اس وقت خطے کے کئی ممالک میں ریفائنریز اور کیمیکل پلانٹس بند پڑے ہیں جو عالمی سپلائی چین میں تعطل کا باعث بن رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:وفاقی حکومت نے اپوزیشن کو 26ویں آئینی ترمیم پر مذاکرات کی دعوت دے دی

اس کے باوجود، حکومت عام آدمی کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ اسی سلسلے میں ڈیزل کی قیمت میں کمی کا خوش آئند اعلان کیا گیا ہے تاکہ ٹرانسپورٹ اور زراعت سے وابستہ طبقے کو براہ راست فائدہ پہنچ سکے۔

 وزیراعظم نے امید ظاہر کی ہے کہ حکومت کی درست سمت میں اٹھائی جانے والی ان کاوشوں کے نتیجے میں آنے والے دنوں میں معاشی حالات مزید بہتری کی طرف جائیں گے۔

سیاسی محاذ پر مفاہمت کی پیشکش

معاشی امور کے ساتھ ساتھ سیاسی محاذ پر بھی وزیراعظم نے نرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپوزیشن کو مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے‘ اور ملک کے وسیع تر مفاد میں سیاسی کشیدگی کو ختم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

وزیراعظم نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ وہ اپوزیشن کو بات چیت شروع کرنے کی پرخلوص دعوت دیتے ہیں اور حکومت مذاکرات کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اب یہ اپوزیشن پر منحصر ہے کہ وہ اس عمل میں کتنی سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی ہے اور مذاکرات کی میز پر کب تک آتی ہے۔ حکومت دیکھنا چاہتی ہے کہ اپوزیشن ملک میں بہتری اور استحکام لانے کے لیے کتنی سنجیدہ ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان طویل عرصے سے شدید سیاسی پولرائزیشن اور مہنگائی کی لہر کا شکار رہا ہے۔ ایک طرف جہاں حکومت عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے نبردآزما ہے، وہیں دوسری طرف سیاسی جماعتوں کے درمیان مسلسل تناؤ نے معاشی اصلاحات کے عمل کو بھی متاثر کیا ہے۔

مزید پڑھیں:حکومت کی تحریک انصاف کو بڑی آفر، بیرسٹر گوہر کا اہم بیان سامنے آگیا

ماضی میں بھی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کئی بار مذاکرات کی کوششیں ہوئیں لیکن ڈیڈلاک برقرار رہا۔ موجودہ حالات میں وزیراعظم کی جانب سے یہ نئی پیشکش سیاسی برف پگھلانے کی ایک اور سنجیدہ کوشش قرار دی جا رہی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کا یہ بیان دو اہم ترین محاذوں، معاشی ریلیف اور سیاسی مفاہمت کا احاطہ کرتا ہے۔ ڈیزل کی قیمت میں کمی بلاشبہ عام آدمی اور کسانوں کے لیے ایک عارضی سہی لیکن خوش آئند مرہم ہے، جو مہنگائی کے مارے عوام کو کسی حد تک سکون فراہم کرے گا۔

تاہم، اس بیان کا سب سے اہم پہلو اپوزیشن کے لیے مفاہمت کا دروازہ کھولنا ہے۔ سیاست میں مذاکرات کے بغیر استحکام کا حصول ناممکن ہوتا ہے۔

اگر اپوزیشن اس پیشکش کو مثبت انداز میں لیتے ہوئے مذاکرات کی میز پر بیٹھتی ہے، تو یہ نہ صرف ملکی سیاست میں جاری کشیدگی کو کم کرے گا بلکہ معاشی پالیسیوں کے تسلسل کو بھی یقینی بنائے گا۔

 اب سب کی نظریں اپوزیشن کے اگلے قدم پر ہیں کہ آیا وہ انا کی جنگ ترک کرکے قومی مفاد کو ترجیح دیتی ہے یا نہیں۔

Related Articles