سولر صارفین کیلئے نیپرا سے پریشان کن خبر آگئی

سولر صارفین کیلئے نیپرا سے پریشان کن خبر آگئی

لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) کے سولر صارفین کو جنریشن لائسنس کے حصول میں غیر معمولی تاخیر کا سامنا ہے، جہاں سینکڑوں صارفین کی درخواستیں ایک ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود زیر التوا ہیں۔

متعلقہ صارفین نے بجلی کی پیداوار کے لائسنس کے لیے درخواستیں جمع کرا رکھی ہیں، تاہم تاحال ان پر حتمی کارروائی مکمل نہیں ہوسکی۔

تفصیلات کے مطابق نیپرا کی جانب سے سولر صارفین کو جنریشن لائسنس جاری کرنے کے عمل میں تاخیر سامنے آئی ہے،  لیسکو نے سینکڑوں صارفین کی درخواستیں لائسنس کے اجرا کے لیے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو ارسال کر رکھی ہیں، لیکن متعدد درخواست گزاروں کو ایک ماہ گزرنے کے باوجود لائسنس جاری نہیں کیے گئے۔

سینکڑوں درخواستیں نیپرا میں زیر التوا

ذرائع کے مطابق لیسکو کی جانب سے 25 کلوواٹ سے زائد سولر سسٹم رکھنے والے صارفین کی درخواستیں نیپرا کو بھجوائی گئی ہیں،  ان درخواستوں میں کمرشل اور انڈسٹریل صارفین سمیت دیگر صارفین بھی شامل ہیں، جنہوں نے اپنے سولر سسٹمز کے لیے جنریشن لائسنس کے حصول کی غرض سے متعلقہ اتھارٹی سے رجوع کیا ہے۔

تاہم درخواستیں ارسال کیے جانے کے باوجود ان پر مقررہ کارروائی مکمل نہ ہونے سے صارفین کو انتظار کرنا پڑ رہا ہے،  لائسنس کے اجرا میں تاخیر کے باعث ان درخواست گزاروں کے لیے سولر سسٹم سے متعلق آئندہ کارروائی بھی متاثر ہونے کا امکان ہے۔

25 کلوواٹ سے کم درخواستیں بھی منجمد

دوسری جانب نیپرا ریگولیشنز میں تبدیلی کے باوجود 25 کلوواٹ سے کم سولر سسٹم سے متعلق درخواستیں بھی منجمد ہوگئی ہیں ،  ان درخواستوں پر مزید پیش رفت نیپرا کی جانب سے منظوری یا عدم منظوری کے فیصلے سے مشروط ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں :اے سی کا درجہ حرارت کتنا رکھیں؟ بجلی کا بل کم کرنے کیلئے آسان طریقے جانیے

متعلقہ حلقوں کے مطابق نیپرا کی جانب سے درخواستوں کے حوالے سے حتمی فیصلہ سامنے آنے کے بعد ہی آئندہ کا طریقہ کار واضح ہوسکے گا،  درخواستیں منظور ہونے یا مسترد کیے جانے کی صورت میں قواعد کے مطابق مزید کارروائی عمل میں لائی جاسکے گی۔

یوں سولر سسٹم لگانے والے صارفین کے لیے جنریشن لائسنس کے اجرا میں تاخیر ایک اہم مسئلہ بن گئی ہے، جبکہ متعدد درخواست گزار نیپرا کی جانب سے کارروائی مکمل ہونے کے منتظر ہیں۔

دوسری جانب 25 کلوواٹ سے کم سسٹمز سے متعلق منجمد درخواستوں پر بھی اتھارٹی کے فیصلے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

editor

Related Articles