مصر کا نام سنتے ہی ذہن میں اہرام مصر، قاہرہ اور دریائے نیل کا خیال آتا ہے، لیکن ملک کے مغربی صحرا میں ایک ایسی جگہ بھی موجود ہے جو کسی خواب یا دوسرے سیارے کا منظر معلوم ہوتی ہے۔
فرحفرہ اویسس کے قریب واقع وائٹ ڈیزرٹ پروٹیکٹوریٹ اپنی سفید چٹانی ساختوں کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ لاکھوں سال کے قدرتی عمل، ہوا اور کٹاؤ نے یہاں چونے کی چٹانوں کو ایسے منفرد انداز میں تراشا ہے کہ کہیں یہ دیوہیکل مشروم جیسی دکھائی دیتی ہیں، کہیں گنبد کی شکل اختیار کر لیتی ہیں اور کہیں عجیب و غریب مجسموں کا روپ دھار لیتی ہیں۔
دن کے وقت سفید چٹانوں سے گھرا وسیع صحرا ایک الگ ہی دنیا کا منظر پیش کرتا ہے، جبکہ رات ہوتے ہی یہی منظر مزید پراسرار ہوجاتا ہے۔ شہر کی روشنیوں سے دور اس علاقے میں آسمان ستاروں سے بھر جاتا ہے اور سفید چٹانیں چاندنی میں مزید روشن دکھائی دیتی ہیں۔
وائٹ ڈیزرٹ کے سفر کے دوران سیاح صرف ایک ہی صحرا نہیں دیکھتے۔ فرحفرہ سے شروع ہونے والے کئی ٹورز میں بلیک ڈیزرٹ، کرسٹل ماؤنٹین، اگابت ویلی اور گریٹ سینڈ سی کے مختلف حصے بھی شامل ہوتے ہیں۔
وائٹ ڈیزرٹ فرحفرہ سے تقریباً 40 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور یہاں ایک رات کے کیمپنگ ٹرپ سے لے کر کئی دنوں پر مشتمل صحرائی مہمات تک مختلف سفری آپشنز دستیاب ہیں۔
اس جگہ کی سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ آج جہاں سفید چٹانیں اور ریت نظر آتی ہے، وہاں کبھی قدیم سمندر موجود تھا۔ چونے کی چٹانوں میں آج بھی سمندری حیات کے فوسلز، جن میں سمندری سیپیاں، مولسکس اور مرجان کے آثار شامل ہیں، پائے جاتے ہیں۔
مصر کے اہرام تاریخ کی عظمت دکھاتے ہیں، لیکن وائٹ ڈیزرٹ فطرت کا ایک ایسا منظر پیش کرتا ہے جہاں خاموشی، چاندنی اور ستاروں بھرا آسمان انسان کو چند لمحوں کے لیے کسی اور دنیا میں پہنچا دیتے ہیں۔