روایتی و ثقافتی رکاوٹوں کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے خیرالنسا نے بلوچستان کی پہلی خاتون کرکٹ کوچ بن کر ایک شاندار تاریخ رقم کی ہے، جو صوبے کی نوجوان بیٹیوں کو کھیل کے میدان میں آگے لانے کیلیے دن رات مصروفِ عمل ہیں۔
بلوچستان میں کھیلوں کی دنیا بالخصوص خواتین کے لیے روایتی اور ثقافتی چیلنجز ہمیشہ سے ایک بڑی رکاوٹ رہے ہیں۔
تاہم، وقت کے ساتھ ساتھ یہ سوچ بدل رہی ہے۔ خیرالنساء کا بطور پہلی خاتون کرکٹ کوچ سامنے آنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اگر عزم پکا ہو تو معاشرتی بندشیں توڑی جا سکتی ہیں۔
پاک فوج اور دیگر اداروں کی جانب سے خواتین کو کھیلوں میں آگے بڑھنے کے لیے سازگار ماحول اور مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں، جس سے اس خطے کی پوشیدہ صلاحیتوں کو نکھارنے میں بڑی مدد مل رہی ہے۔
عزم اور بلند حوصلے
خیرالنساء بلوچ کا کہنا ہے کہ انہیں بلوچستان کی پہلی خاتون کرکٹ کوچ ہونے کا اعزاز حاصل ہے جو ان کے لیے انتہائی باعثِ فخر ہے۔
ان کا مقصد صرف مقامی سطح تک محدود رہنا نہیں بلکہ بلوچستان کی باصلاحیت بیٹیوں کو قومی اور عالمی کرکٹ کے میدانوں تک پہنچانا ہے۔
ان کا ماننا ہے کہ یہاں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، بلکہ صرف درست سمت اور مواقع کی ضرورت ہے۔ وہ چاہتی ہیں کہ ان کی اکیڈمی سے تربیت یافتہ کھلاڑی مستقبل میں پاکستان کی قومی سطح پر نمائندگی کریں۔
کھلاڑیوں کا ردِعمل اور اعتماد میں اضافہ
خواتین کرکٹ اکیڈمی کی کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ کوچ خیرالنساء کی آمد سے ان کے اعتماد اور حوصلے کو نئی تقویت ملی ہے۔
کھلاڑیوں کے مطابق وہ ہر کھلاڑی کی صلاحیتوں پر خصوصی توجہ دیتی ہیں اور ان کی نگرانی میں انہیں اپنی کھیل کی صلاحیتیں نکھارنے کے بہترین مواقع مل رہے ہیں۔
تبدیلی کی نوید اور روشن مستقبل
خیرالنسا کا یہ قدم محض ایک کھیل کی شروعات نہیں بلکہ بلوچستان کے معاشرتی منظرنامے میں ایک فکری انقلاب کی مانند ہے۔
کھیلوں میں خواتین کی شمولیت سے نہ صرف ان کی شخصیت میں نکھار آتا ہے بلکہ وہ معاشرے میں خود اعتمادی کے ساتھ آگے بڑھتی ہیں۔
پاک فوج کے تعاون سے کھیلوں کے فروغ کے یہ اقدامات اس بات کی ضمانت ہیں کہ آنے والے وقتوں میں بلوچستان کے گلی محلوں سے قومی سطح کے نامور کھلاڑی ابھر کر سامنے آئیں گے۔ یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ عزم، محنت اور جستجو کے سامنے کوئی بھی منزل ناممکن نہیں۔