پاکستان کو عالمی حسن کے مقابلے مس یونیورس میں ایک بار پھر نمائندگی کا اعزاز حاصل ہوگیا مصباح ارشد کو مس یونیورس پاکستان 2026 منتخب کرلیا گیا ہے۔
مصباح ارشد کی کامیابی کا اعلان فلپائن میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب کے دوران کیا گیا جہاں مس یونیورس پاکستان کے فرنچائز مالک جوش یوگن نے انہیں اعزازی پٹی پہنائی جبکہ سابق مس یونیورس پاکستان روما ریاض نے انہیں تاج پہنایا۔
مصباح ارشد کا انتخاب مقابلے کے آخری مرحلے میں پوچھے گئے ایک منفرد سوال کے جواب کے بعد کیا گیا۔ فلپائن کے معروف موسیقار اور اداکار بیلی مے نے ان سے سوال کیا کہ اگر انہیں اپنی 10 سالہ اور 80 سالہ شخصیت کے ساتھ ایک کمرے میں بٹھایا جائے تو ان دونوں میں سے کون ان سے زیادہ مشکل سوال کرے گی؟
مصباح ارشد نے جواب دیا کہ ان کی 10 سالہ شخصیت ان سے زیادہ مشکل سوال کرے گی کیونکہ وہ ان سے پوچھے گی کہ زندگی آخر کیسی گزری؟
انہوں نے کہا کہ وہ اپنی کم عمر شخصیت کو بتائیں گی کہ زندگی میں کئی مواقع پر ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن اصل کامیابی ناکامی کے بعد دوبارہ کھڑے ہونے اور آگے بڑھنے میں ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سونے کی قیمت میں سال کا سب سے بڑا اضافہ ، گولڈ مارکیٹ ہل گئی
مصباح ارشد نے زندگی کو ایک خوبصورت چکر قرار دیتے ہوئے کہا کہ زندگی کو صرف قبول کرنا کافی نہیں بلکہ اسے بھرپور انداز میں جینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ آگ جتنی تیز ہوتی ہے سونا اتنا ہی خالص ہوتا ہے۔
مصباح ارشد نفسیات کی طالبہ ہیں اور انہیں عالمی حسن کے مقابلوں میں شرکت کا پہلے سے تجربہ حاصل ہے۔ وہ 2023 میں جاپان میں منعقد ہونے والے مس انٹرنیشنل مقابلے میں پاکستان کی نمائندگی کرچکی ہیں۔
اس کے علاوہ مصباح ارشد نے 2024 میں پولینڈ میں ہونے والے مس سپرا نیشنل مقابلے میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی تھی۔ عالمی مقابلوں میں شرکت کے تجربے کو ان کی موجودہ کامیابی میں اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔
مس یونیورس پاکستان منتخب ہونے کے بعد مصباح ارشد اب پورٹو ریکو روانہ ہوں گی، جہاں وہ مس یونیورس کے 75ویں عالمی مقابلے میں پاکستان کی نمائندگی کریں گی۔
اس طرح پاکستان کو مس یونیورس کے عالمی مقابلے میں چوتھی مرتبہ نمائندگی کا موقع ملے گا۔ مصباح ارشد کی شرکت نہ صرف ان کے لیے بلکہ پاکستان کے لیے بھی عالمی سطح پر ملک کی نمائندگی کا ایک اہم موقع ہوگی۔
مصباح ارشد کا کہنا ہے کہ زندگی میں کامیابی کا اصل مطلب مشکلات سے بچنا نہیں بلکہ مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے دوبارہ اٹھنا اور اپنے سفر کو جاری رکھنا ہے۔ ان کا یہی پیغام ان کے آخری سوال کے جواب کا مرکزی نکتہ بھی رہا، جس کے بعد انہیں مس یونیورس پاکستان 2026 کے اعزاز سے نوازا گیا۔