حکومت پنجاب نے صوبے بھر میں پرانی اور ناکارہ گاڑیوں کے خلاف بڑا فیصلہ کرتے ہوئے ایسی گاڑیوں کو سکریپ کرنے کے لیے نئے قانونی نظام کی منظوری دے دی،گورنر پنجاب نے موٹر وہیکلز آرڈیننس میں تیسری بڑی ترمیم کی منظوری دے دی، جس کے بعد نیا قانون فوری طور پر نافذ ہوگا۔
آرڈیننس کے مطابق رجسٹریشن ختم یا منسوخ ہونے والی گاڑیوں کواینڈ آف لائف وہیکل تصور کیا جائے گا اور انہیں ناکارہ گاڑیوں کی فہرست میں شامل کیا جاسکے گا،اس کے علاوہ فٹنس یا دھوئیں کا سرٹیفکیٹ حاصل نہ کرنے والی گاڑیوں کے خلاف بھی سکریپنگ کی کارروائی ہوسکے گی۔
حادثے میں تباہ گاڑیاں بھی شامل
حادثے، آگ یا قدرتی آفت کے نتیجے میں مکمل یا شدید نقصان کا شکار ہونے والی گاڑیوں کو بھی ناکارہ قرار دے کر سکریپ کیا جاسکے گا،گاڑی کا مالک اپنی ناکارہ گاڑی رضاکارانہ طور پر بھی سکریپنگ کے لیے متعلقہ مرکز میں جمع کرا سکے گا۔
حکومت ناکارہ گاڑیوں کی سکریپنگ کے لیے باقاعدہ مراکز قائم کرے گی، جن میں سرکاری اور نجی دونوں مراکز شامل ہوں گے،سکریپنگ سینٹرز میں ناکارہ گاڑیوں سے قابل استعمال پرزے الگ کیے جائیں گے، جبکہ باقی حصوں کو ری سائیکل کیا جائے گا۔
آلودگی کم کرنا مقصد
حکومت پنجاب کے مطابق پرانی اور آلودگی پھیلانے والی گاڑیوں کی سکریپنگ کے نئے نظام کا مقصد دھوئیں سے پیدا ہونے والی آلودگی کو کم کرنا اور صوبے میں صاف ماحول کو یقینی بنانا ہے،آرڈیننس کے تحت ناکارہ گاڑیوں کی سکریپنگ کے طریقہ کار اور دیگر تفصیلات کے لیے حکومت باقاعدہ قواعد و ضوابط بھی مرتب کرے گی۔