نئے اور پرانے موبائل فونز پر ٹیکس ایک جیسا ہے یا الگ؟ حقیقت کھل گئی

نئے اور پرانے موبائل فونز پر ٹیکس ایک جیسا ہے یا الگ؟ حقیقت کھل گئی

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ موبائل فون کی رجسٹریشن کے وقت نئے اور استعمال شدہ فون میں ٹیکس کے اعتبار سے کوئی الگ درجہ بندی نہیں کی جاتی، جبکہ ڈیوٹی اور ٹیکس کا تعین ایف بی آر اور کسٹمز حکام کرتے ہیں۔

پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ وہ ٹیکس عائد یا وصول نہیں کرتا بلکہ آئی ایم ای آئی کی بنیاد پر ڈیوائس کی رجسٹریشن اور نیٹ ورک پر اس کی قانونی حیثیت یقینی بناتا ہے۔

اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ ڈویژن کے اجلاس میں موبائل فون رجسٹریشن اور ٹیکس کے نظام سے متعلق اہم وضاحتیں سامنے آئی ہیں۔

پی ٹی اے کے رکن انفورسمنٹ ڈاکٹر خاور صدیق کھوکھر نے کمیٹی کو بتایا کہ موبائل فون جب پاکستانی موبائل نیٹ ورک سے منسلک ہوتا ہے تو اس کے آئی ایم ای آئی کی بنیاد پر رجسٹریشن کا عمل شروع ہوتا ہے، تاہم پی ٹی اے موبائل فون پر ٹیکس عائد یا وصول نہیں کرتا۔

یہ بھی پڑھیں:ٹوکن اور کارڈ سسٹم ختم ! اورنج ٹرین ، اسپیڈو اور میٹرو میں سفر کرنیوالوں کے لیے اہم خبر

سرکاری نظام کے مطابق ڈیوائس آئیڈینٹی فکیشن رجسٹریشن اینڈ بلاکنگ سسٹم کا بنیادی مقصد غیر مطابقت رکھنے والے موبائل آلات کی شناخت، تصدیق اور ضرورت پڑنے پر انہیں پاکستانی نیٹ ورکس سے بلاک کرنا ہے۔ یہ نظام 1 دسمبر 2018 سے نافذ ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ اس رجسٹریشن نظام میں فون کو محض اس بنیاد پر ‘نیا’ یا ‘استعمال شدہ’ قرار دے کر ٹیکس کی الگ شرح مقرر نہیں کی جاتی۔ بیرون ملک سے لائے جانے والے نئے اور استعمال شدہ دونوں موبائل فونز کے آئی ایم ای آئی کی رجسٹریشن ضروری ہوتی ہے۔

ٹیکس کا فیصلہ ایف بی آر اور کسٹمز کرتے ہیں

کمیٹی کو بتایا گیا کہ موبائل فون سے متعلق قابل اطلاق ٹیکس اور ڈیوٹی کا تعین ایف بی آر کے نظام کے ذریعے ہوتا ہے، جبکہ کسٹمز حکام درآمدی مال کی نوعیت، قیمت اور متعلقہ قواعد کے تحت اس کی ویلیوایشن کرتے ہیں۔

موبائل فون رجسٹریشن کا عمل اور ٹیکس وصولی کو الگ الگ سمجھنا اس پورے معاملے کی بنیادی بات ہے۔ ڈیوائس کا آئی ایم ای آئی رجسٹر ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ پاکستانی نیٹ ورک پر استعمال کے لیے نظام میں شامل ہوچکی ہے، جبکہ مالی واجبات کا تعین ایف بی آر کے متعلقہ نظام سے ہوتا ہے۔

سرکاری طریقہ کار کے مطابق آئی ایم ای آئی کی تصدیق کے بعد نظام ایف بی آر سے منسلک ہوکر قابل اطلاق کسٹمز ڈیوٹی اور ٹیکس کے لیے ادائیگی سلپ تیار کرتا ہے۔

اسی لیے کسی صارف کو استعمال شدہ موبائل فون کی قیمت کے مقابلے میں زیادہ ٹیکس نظر آئے تو یہ لازماً اس وجہ سے نہیں ہوتا کہ رجسٹریشن سسٹم نے اسے نیا فون سمجھ لیا ہے۔ اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ کسٹمز کے لیے اس ڈیوائس کی قابل قبول مالیت کیا مقرر ہوئی ہے۔

نئے اور استعمال شدہ فون میں فرق کہاں پیدا ہوتا ہے؟

اجلاس میں حکام نے وضاحت کی کہ تجارتی مقدار میں آنے والے موبائل فونز کے معاملے میں کسٹمز حکام نئے اور استعمال شدہ فونز کے درمیان فرق کر سکتے ہیں۔

یہی وہ مرحلہ ہے جہاں دونوں اقسام کے فونز کی کسٹمز ویلیوایشن مختلف ہوسکتی ہے اور نتیجتاً قابل ادائیگی ڈیوٹی اور ٹیکس بھی مختلف نکل سکتا ہے۔

یعنی بظاہر یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ‘استعمال شدہ فون پر الگ ٹیکس اور نئے فون پر الگ ٹیکس’ صرف رجسٹریشن سسٹم کی پالیسی ہے۔ حقیقت میں فرق کسٹمز ویلیوایشن، درآمدی نوعیت اور متعلقہ تجارتی قواعد سے پیدا ہوسکتا ہے۔

جنوری 2026 میں کسٹمز کے ڈائریکٹوریٹ جنرل نے تجارتی مقدار میں درآمد کیے جانے والے پرانے اور استعمال شدہ موبائل فونز کے لیے نئی ویلیوایشن بھی جاری کی تھی، جس میں 62 ماڈلز کے لیے کسٹمز ویلیو مقرر کی گئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ استعمال شدہ فونز کی کمرشل درآمد میں ویلیوایشن کا الگ فریم ورک عملی طور پر موجود ہے۔

2030 تک ڈیوٹی میں کمی کا معاملہ

ایف بی آر حکام کے مطابق سابق وفاقی بجٹ میں موبائل فونز پر کسٹمز ڈیوٹی میں سالانہ 20 فیصد کمی کا فیصلہ کیا گیا تھا، جس کا سلسلہ 2030 تک جاری رہنا ہے۔

اس فیصلے کا بنیادی مقصد موبائل فونز کی درآمدی لاگت میں بتدریج کمی، مارکیٹ میں مسابقت اور مقامی صنعت کے لیے ایک قابل عمل ماحول پیدا کرنا قرار دیا جاتا ہے۔

تاہم صارف کے لیے اصل ریلیف صرف کسٹمز ڈیوٹی میں کمی سے نہیں بلکہ موبائل فون پر مجموعی ٹیکس بوجھ، ویلیوایشن اور دیگر متعلقہ محصولات سے بنتا ہے۔

مزید پڑھیں:موبائل صارفین پر ٹیکسوں کا بھاری بوجھ، 100 روپے کے لوڈ میں 27 روپے سے زائد ٹیکس کی نذر

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بھی رواں سال موبائل فونز کے موجودہ ٹیکس نظام پر بریفنگ دی جاچکی ہے، جس میں درآمدی اور مقامی طور پر تیار ہونے والے موبائل فونز کے لیے مختلف ٹیکس پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا تھا۔

مقامی موبائل فون صنعت کے لیے نئی پالیسی

اجلاس میں موبائل فونز کی مقامی تیاری کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ حکام نے بتایا کہ پاکستان میں موبائل فونز کی مینوفیکچرنگ جاری ہے، تاہم بیٹریاں اور کیسز سمیت بعض اہم اجزا اب بھی بڑی حد تک بیرون ملک سے حاصل کیے جاتے ہیں۔

ڈاکٹر خاور صدیق کھوکھر کے مطابق انجینیئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ موبائل فون صنعت کے لیے نئی پالیسی پر کام کررہا ہے۔

یہ پہلو اس لیے اہم ہے کہ اگر حکومت موبائل فونز کی مقامی تیاری کو حقیقی صنعتی بنیاد دینا چاہتی ہے تو صرف اسمبلی پلانٹس کا قیام کافی نہیں ہوگا۔

مقامی پرزہ جات، ٹیکنالوجی کی منتقلی، ہنرمند افرادی قوت، معیار، برآمدی صلاحیت اور سپلائی چین کی تشکیل بھی ضروری ہوگی۔

5G کے لیے ٹیکس پالیسی کیوں اہم ہے؟

کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر رانا محمود الحسن نے بتایا کہ عالمی موبائل کمیونیکیشن صنعت کی نمائندہ تنظیم نے پاکستان کے موجودہ موبائل فون ٹیکسوں کے بارے میں خدشات ظاہر کیے ہیں اور نشاندہی کی ہے کہ زیادہ ٹیکس5 جی کی رفتار اور کارکردگی کو متاثر کرسکتے ہیں۔

یہ نکتہ محض موبائل فون کی قیمت تک محدود نہیں۔ 5 جی کے پھیلاؤ کے لیے صارفین کے پاس جدید اور مطابقت رکھنے والے آلات کی دستیابی ضروری ہے۔

اگر جدید فونز کی قیمت ٹیکسوں کے باعث بہت زیادہ ہوجائے تو نیٹ ورک دستیاب ہونے کے باوجود بڑی تعداد میں صارفین نئی ٹیکنالوجی سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔

حالیہ عرصے میں عالمی موبائل صنعت کی جانب سے پاکستان میں ٹیلی کام ٹیکس اصلاحات پر بھی زور دیا گیا ہے۔ سفارشات میں ایسی مالی پالیسی کی ضرورت اجاگر کی گئی ہے جو نیٹ ورک سرمایہ کاری، ڈیجیٹل رسائی اور 4 جی و 5 جی کی توسیع میں رکاوٹ نہ بنے۔

جعلی آئی ایم ای آئی کے خلاف کارروائی

اجلاس میں جعلی آئی ایم ای آئی والے موبائل فونز کے خلاف کارروائی کا معاملہ بھی سامنے آیا۔ پی ٹی اے حکام نے بتایا کہ لاکھوں ایسے موبائل فونز کو بلاک کیا جاچکا ہے جن کے آئی ایم ای آئی نمبرز جعلی یا غیر قانونی نوعیت کے تھے۔

یہ کارروائی دراصل رجسٹریشن نظام کے بنیادی مقصد سے جڑی ہوئی ہے۔ سرکاری طریقہ کار کے تحت آئی ایم ای آئی کو اس بات کے لیے جانچا جاتا ہے کہ وہ درست ہو، نقل شدہ نہ ہو اور چوری شدہ ڈیوائس کے طور پر رپورٹ نہ کیا گیا ہو۔

اس پہلو سے دیکھا جائے تو موبائل رجسٹریشن صرف ٹیکس وصولی کا نظام نہیں بلکہ صارفین، موبائل آپریٹرز اور قانونی درآمدی چین کو غیر قانونی اور جعلی ڈیوائسز سے محفوظ رکھنے کا ایک اہم انتظام بھی ہے۔

بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے کیا مطلب ہے؟

کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی اس امر پر خوش ہیں کہ اب ان سے پہلے کی طرح بیرون ملک سے موبائل فون لانے کا مطالبہ نہیں کیا جاتا۔

تاہم بیرون ملک سے فون لانے والے مسافروں کے لیے رجسٹریشن کے تقاضے بدستور اہم ہیں۔ سرکاری معلومات کے مطابق بیرون ملک سے پاکستان لائے جانے والے نئے یا استعمال شدہ موبائل فون، اگر پاکستانی مقامی نیٹ ورک پر استعمال ہونے ہوں، تو ان کے آئی ایم ای آئی کی رجسٹریشن ضروری ہے۔

اس نظام میں ذاتی استعمال کے لیے سالانہ 5 موبائل ڈیوائسز تک کی اجازت کا طریقہ کار بھی موجود ہے، جبکہ قابل اطلاق ٹیکس اور ڈیوٹی کی ادائیگی کے بعد ڈیوائس کو نظام میں وائٹ لسٹ کیا جاتا ہے۔

اصل مسئلہ ٹیکس ہے یا ویلیوایشن؟

اس پورے معاملے کا سب سے اہم پہلو یہی ہے کہ صارف کے نقطۂ نظر سے موبائل فون پر ‘پی ٹی اے ٹیکس’ ایک عام اصطلاح بن چکی ہے، حالانکہ ادارہ جاتی طور پر صورت حال مختلف ہے۔ پی ٹی اے رجسٹریشن اور آئی ایم ای آئی کی نگرانی کرتا ہے، جبکہ ٹیکس اور کسٹمز واجبات کا تعلق ایف بی آر اور کسٹمز کے نظام سے ہے۔

یہ بھی پڑھیں:موبائل صارفین پر ٹیکسوں کا بھاری بوجھ، 100 روپے کے لوڈ میں 27 روپے سے زائد ٹیکس کی نذر

دوسری طرف، استعمال شدہ فون کے معاملے میں صارف کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوسکتا ہے کہ مارکیٹ میں خریدی گئی سیکنڈ ہینڈ ڈیوائس کی اصل خریداری قیمت اور کسٹمز کی مقرر کردہ قابل قبول ویلیو میں خاصا فرق ہو۔ ایسی صورت میں صارف کو یہ محسوس ہوسکتا ہے کہ اس سے فون کی موجودہ مارکیٹ قیمت سے کہیں زیادہ ٹیکس طلب کیا جارہا ہے۔

اسی لیے پالیسی کے اعتبار سے صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ ٹیکس کم کیا جائے۔ ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ ویلیوایشن کا نظام شفاف، قابل فہم اور حقیقی مارکیٹ حالات سے ہم آہنگ ہو، خصوصاً استعمال شدہ موبائل فونز کے لیے۔

واضح رہے کہ سینیٹ کمیٹی میں سامنے آنے والی بریفنگ نے موبائل فون ٹیکس کے بارے میں ایک اہم ابہام دور کردیا ہے۔ نیا یا استعمال شدہ فون ہونے کی بنیاد پر رجسٹریشن سسٹم خود ٹیکس کی الگ شرح مقرر نہیں کرتا؛ اصل مالی فرق متعلقہ کسٹمز ویلیوایشن اور قابل اطلاق ٹیکس و ڈیوٹی سے پیدا ہوتا ہے۔

اب اصل چیلنج یہ ہے کہ حکومت موبائل فونز پر محصولات، صارفین کی قوت خرید، مقامی صنعت کے تحفظ اور 5G کے فروغ کے درمیان ایسا توازن قائم کرے جس میں ریاستی آمدن بھی برقرار رہے اور پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کی رفتار بھی متاثر نہ ہو۔

Related Articles