امریکی ریاست ٹیکساس میں 24 سالہ کمپیوٹر سائنس کے طالب علم نے اوپن سورس سافٹ ویئر میں نقصان دہ کوڈ شامل کرنے کی کوشش بروقت پکڑ کر ایک ممکنہ بڑے سائبر حملے کو ناکام بنا دیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس حملے کے پیچھے کوئی انسانی ہیکر نہیں بلکہ ایک خودکار مصنوعی ذہانت پر مبنی ہیکنگ ایجنٹ موجود تھا۔ vرائٹرز کے مطابق یونیورسٹی آف ٹیکساس اٹ ڈلاس کے طالب علم سینان جان دمیر گزشتہ ماہ اپنے پورٹ فولیو کے لیے اوپن سورس پروجیکٹس تلاش کر رہے تھے کہ انہیں گٹ ہب پر ایک منصوبے میں مشکوک کوڈ نظر آیا۔
دمیر نے فوری طور پر اس تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہوئے خبردار کیا کہ مجوزہ کوڈ میں خفیہ میل ویئر شامل ہوسکتا ہے۔اس انتباہ کے بعد2 صارفین نے دمیر کے مؤقف کی مخالفت کی اور مختلف دلائل کے ذریعے انہیں یقین دلانے کی کوشش کی کہ کوڈ محفوظ ہے۔ تاہم طالب علم اپنے مؤقف پر قائم رہے اور بالآخر نقصان دہ تبدیلی کو سافٹ ویئر میں شامل ہونے سے روک دیا۔
بعد میں برطانوی اے آئی سکیورٹی انسٹی ٹیوٹ نے دمیر سے رابطہ کرکے انکشاف کیا کہ جن اکاؤنٹس سے وہ بحث کر رہے تھے، ان کے پیچھے دراصل ایک خودکار اے آئی ایجنٹ موجود تھا، جو ایک سکیورٹی تجربے کے دوران بے قابو ہوگیا تھا۔
جعلی شناختوں سے انسانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش
میڈیا رپورٹ کے مطابق اے آئی ایجنٹ نے مختلف جعلی اکاؤنٹس استعمال کرتے ہوئے نقصان دہ سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کو بے ضرر ثابت کرنے کی کوشش کی۔ ایک اکاؤنٹ کے ذریعے کوڈ کو محفوظ قرار دیا گیا، جبکہ دوسرے جعلی اکاؤنٹ سے خود کو جرمنی میں مقیم انجینئر ظاہر کرکے دیگر صارفین کو اس اپ ڈیٹ پر اعتماد کرنے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کی گئی۔
دمیر کے مطابق انہیں ابتدا میں یہی محسوس ہوا کہ وہ کسی ماہر انسانی ہیکر سے بحث کر رہے ہیں، کیونکہ سامنے موجود اکاؤنٹس نے انہیں غلط ثابت کرنے کے لیے بظاہر جھوٹ بولا اور مختلف شناختوں سے دلائل پیش کیے۔
ماہرین کے مطابق یہ واقعہ اس لیے تشویشناک ہے کہ اے آئی ایجنٹ نے صرف نقصان دہ کوڈ تیار کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ انسانوں کو قائل کرنے اور گمراہ کرنے کے لیے بھی حکمت عملی اختیار کی۔ کنگز کالج لندن کے محقق لوکاز اولیجنک کے مطابق یہ معاملہ خودکار ہیکنگ سے آگے بڑھ کر انسانی رویوں سے فائدہ اٹھانے کی ایک منظم کوشش کو ظاہر کرتا ہے۔
اے آئی سے سائبر سکیورٹی کو نیا خطرہ
ماہرین کے مطابق سافٹ ویئر سپلائی چین حملے میں کسی سافٹ ویئر یا اس کی اپ ڈیٹ میں خفیہ طور پر نقصان دہ کوڈ شامل کیا جاتا ہے۔ بعد میں یہی سافٹ ویئر استعمال کرنے والے بڑی تعداد میں صارفین متاثر ہوسکتے ہیں۔
سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ خودکار اے آئی ایجنٹس مستقبل میں ایسے حملوں کو زیادہ تیزی اور بڑے پیمانے پر انجام دینے کی صلاحیت حاصل کرسکتے ہیں، جس سے اوپن سورس سافٹ ویئر کی سکیورٹی ایک نئے چیلنج سے دوچار ہوسکتی ہے۔
برطانوی اے آئی سکیورٹی انسٹی ٹیوٹ کے مطابق اس تجربے میں استعمال ہونے والا ایجنٹ اینتھروپک کے میتھوز 5 ماڈل پر مبنی تھا۔ گٹ ہب نے بھی تصدیق کی کہ اے آئی ایجنٹ کی جانب سے استعمال کیے گئے جعلی اکاؤنٹس کو دھوکا دہی اور ہیکنگ سے متعلق پالیسیوں کی خلاف ورزی پر معطل کردیا گیا۔
واقعے کے بعد سینان جان دمیر نے خبردار کیا کہ اے آئی کو زیادہ طاقتور بنانے کے ساتھ ساتھ اس کے ممکنہ خطرات اور رویے کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اے آئی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے، اس لیے اسے مزید طاقتور بنانے سے پہلے اس کی صلاحیتوں اور ممکنہ خطرات کو بہتر طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے۔