طالبان رجیم میں افغانستان دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہ، معاشی تباہی اور عالمی تنہائی کا شکار

طالبان رجیم میں افغانستان دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہ، معاشی تباہی اور عالمی تنہائی کا شکار

افغانستان میں طالبان کے اقتدار کے بعد ملک کو درپیش سکیورٹی، معاشی اور سفارتی مسائل پر امریکی تھنک ٹینک دی صوفان سینٹر نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

دی صوفان سینٹر کے مطابق طالبان کے زیر اقتدار افغانستان بدستور ایک کمزور اور ناکام ریاست کی صورت اختیار کیے ہوئے ہے، جہاں مختلف دہشتگرد گروہوں اور پُرتشدد شدت پسند عناصر کو محفوظ ماحول میسر ہے۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان میں القاعدہ کی موجودگی بھی بدستور ایک اہم سکیورٹی چیلنج ہے۔ تھنک ٹینک کا کہنا ہے کہ القاعدہ افغانستان میں موجود تربیتی مراکز کے ذریعے فتنہ الخوارج سمیت دیگر شدت پسند عناصر کو تربیت فراہم کر رہی ہے۔

طالبان کی پالیسیاں، افغانستان میں عدم استحکام میں اضافہ

دی صوفان سینٹر کے مطابق طالبان کی سخت گیر پالیسیوں اور مختلف دہشتگرد گروہوں کے ساتھ روابط نے افغانستان میں عدم استحکام اور مجرمانہ سرگرمیوں میں اضافے کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

میڈیا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان مسلسل عالمی تنہائی کا شکار ہے، جبکہ ملک کی معیشت کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

منشیات کی اسمگلنگ بھی بڑا چیلنج

امریکی تھنک ٹینک کے مطابق افغانستان بدستور عالمی سطح پر منشیات کی اسمگلنگ کے اہم مراکز میں شمار ہوتا ہے، جس کے باعث خطے سمیت عالمی سطح پر سکیورٹی کے خدشات برقرار ہیں۔

ماہرین کے مطابق طالبان کے اقتدار کے بعد افغانستان میں مختلف شدت پسند گروہوں کی موجودگی خطے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے، خصوصاً ایسے گروہوں کی سرگرمیاں جن کے روابط افغانستان سے باہر بھی موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:لوگ مررہے ہیں اور طالبان پانچ سال کی تباہی کا جشن منارہے ہیں، افغان شہری کا غصے کا اظہار، ویڈیو وائرل

ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان کی سخت گیر پالیسیوں، بالخصوص خواتین اور لڑکیوں پر عائد پابندیوں نے افغانستان کی سفارتی تنہائی میں اضافہ کیا ہے، جبکہ ان پالیسیوں کے معاشی اور سماجی اثرات بھی ملک کو مزید مشکلات سے دوچار کر رہے ہیں۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق افغانستان میں سکیورٹی صورتحال، شدت پسند گروہوں کی موجودگی، معاشی مشکلات اور عالمی سطح پر محدود روابط کے باعث طالبان حکومت کو آنے والے عرصے میں متعدد چیلنجز کا سامنا رہے گا۔

editor

Related Articles