گودی میڈیا کے جھوٹے پروپیگنڈے کا عبرتناک انجام، دہلی کی سڑکوں پر کٹھ پتلی صحافیوں کی درگت اور مودی سرکار کی کھلی ہزیمت

گودی میڈیا کے جھوٹے پروپیگنڈے کا عبرتناک انجام، دہلی کی سڑکوں پر کٹھ پتلی صحافیوں کی درگت اور مودی سرکار کی کھلی ہزیمت

بھارتی پروپیگنڈہ مشینری کے اہم مہرے اور نام نہاد صحافی آدتیہ راج کول اور سدھانت سبل، جب دہلی میں جاری عوامی احتجاج کے خلاف اپنا زہریلا اور جھوٹا بیانیہ بیچنے پہنچےتو انہیں عوام کے شدید غیض و غضب کا نشانہ بننا پڑا۔

مظاہرین کا شدید ردعمل، بیانیے پر سوالات اٹھ گئے

مظاہرین کی جانب سے ان کی درگت بننا اور انہیں وہاں سے عبرتناک انداز میں مار بھگانا اس تلخ حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ سچائی کو جھوٹ کے پردے میں زیادہ دیر تک چھپایا نہیں جا سکتا۔

اپنے ہی ملک میں صحافتی کردار پر تنقید

درحقیقت، یہ ہے وہ عزت، پہچان اور اصل مقام جو ان کٹھ پتلی صحافیوں کو ان کے اپنے ہی ملک اور اپنے ہی باشعور عوام کے درمیان حاصل ہے،اپنے ہی گھر میں سرِعام ذلیل و خوار ہونے اور عوام کے ہاتھوں پٹنے کے باوجود، ان شرم سے عاری صحافیوں میں اب بھی اتنی ڈھٹائی اور دیدہ دلیری باقی ہے کہ یہ پوری بے شرمی کے ساتھ پاکستان کے خلاف دن رات بے بنیاد اور من گھڑت پروپیگنڈہ پھیلانے سے باز نہیں آتے۔

دہلی واقعہ اور مودی حکومت کے بیانیے کی موت

دہلی کی سڑکوں پر ان کی یہ تاریخی درگت دراصل مودی سرکار کے اس پورے جھوٹے بیانیے کی موت ہے جسے یہ نام نہاد صحافی حقائق کو مسخ کر کے دنیا بھر میں بیچنے کی بھونڈی کوشش کرتے ہیں۔

بھارت میں سیاسی صورتحال پر سخت ردعمل

دہلی کی سڑکوں پر امڈتا ہوا عوام کا سمندر اور مودی حکومت کی کھلی ناکامی اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ریاستی جبر پر کھڑا بھارت اب اندر سے بکھر رہا ہے۔

گودی میڈیا عوامی غیض وغضب کی لپیٹ میں آگیا

جب فسطائی مودی سرکار کا اپنا گھر اندرونی بغاوتوں اور عوامی غیض و غضب کی لپیٹ میں آیا ہے تو بھارتی گودی میڈیا کے ان نام نہاد صحافیوں کی زبانوں نے اپنی خفت مٹانے کے لیے ایک بار پھر پاکستان کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیا ہے۔

اندرونی مسائل کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کا انجام

اپنی اس تاریخی ہزیمت اور ریاستی گراوٹ کا حقیقت پسندانہ تجزیہ کرنے کے بجائےان بکے ہوئے صحافیوں نے اپنی پرانی اور گھسی پٹی روایت کو دہراتے ہوئے اس اندرونی طوفان کا سارا ملبہ بھی بے شرمی سے پاکستان پر ڈال دیا ہے۔

کشمیر اور خطے کے مسائل سے چشم پوشی

یہ کیسی کھلی منافقت ہے کہ ان اندھے اور بہرے صحافیوں کو مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم، ریاستی دہشتگردی اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں تو کبھی نظر نہیں آتیں اور نہ ہی انہیں بلوچستان میں تخریب کاری اور دہشتگردی کے نیٹ ورکس چلانے والے اپنے ریاستی مہرے یاد آتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :پاکستان کی بہترین سفارتکاری، وفود کی آمد، بھارت میں صف ماتم، گودی میڈیا تلملا اٹھا

مقبوضہ وادی کو ظلم سے دبانے اور پڑوسی ملک میں دراندازی کر کے عدم استحکام پھیلانے والے جب اپنے ہی عوام کے ہاتھوں ذلیل و خوار ہو کر اقتدار کے ایوانوں میں لاچار ہوتے ہیں، تو انہیں فوراً پاکستان کا نام لے کر اپنی ناکامیاں چھپانے کا ایک آسان بہانہ مل جاتا ہے۔

بھارتی صحافیوں اور حکومت سے سوال

اب ان شرم سے عاری بھارتی صحافیوں اور ان کی پشت پناہی کرنے والی فسطائی مودی سرکار سے ایک سیدھا اور چبھتا ہوا سوال: جب تمہارے اپنے ہی عوام تمہاری منافقت، جھوٹے بیانیے اور زہریلے پروپیگنڈے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے بیچ سڑک پر تمہاری درگت بنا رہے ہیں، تو کیا اب بھی تم اسی بے شرمی اور ڈھٹائی کے ساتھ پاکستان کے خلاف اپنا جھوٹا چورن بیچ کر اپنی صحافتی، اخلاقی اور ذہنی پستی کا تماشا پوری دنیا کو دکھاتے رہو گے؟

editor

Related Articles