وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگو نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ دہشت گردوں کا نام نہ لینا خوف کے مترادف ہے اور اس طرزِ عمل کے ذریعے حقائق کو عوام سے چھپایا جا رہا ہے۔
میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ سرانان حملے کی ذمہ داری دہشت گرد تنظیم قبول کرچکی ہے اس کے باوجود دہشت گردوں کا نام لینے سے گریز کیا جا رہا ہے ان کے بقول محمود خان اچکزئی اپنی جان کے خوف کی وجہ سے دہشت گرد تنظیموں کا نام نہیں لے رہے اور اس کے نتیجے میں غلط بیانی سامنے آرہی ہے۔
وزیر داخلہ بلوچستان نے کہا کہ بعض سیاسی رہنما شارٹ کٹ اختیار کرتے ہوئے ہر واقعے کی ذمہ داری حکومت پر ڈال دیتے ہیں حالانکہ انہیں چاہیے کہ وہ عوام کے سامنے اصل حقائق رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات میں ملوث عناصر کے بارے میں واضح مؤقف اختیار کرنا سیاسی رہنماؤں کی ذمہ داری ہے۔
میر ضیاء اللہ لانگو کا کہنا تھا کہ بعض رہنماؤں کو اپنی جانوں کا خوف لاحق ہے اور یہی خوف انہیں دہشت گرد تنظیموں کا نام لینے سے روکتا ہے۔ انہوں نے اس رویے کو دوغلے پن سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے معاملے پر ابہام پیدا کرنے کے بجائے حقائق واضح کیے جانے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام سے اصل حقائق چھپا کر دہشت گردی کا سارا ملبہ حکومت پر ڈالنا مسئلے کا حل نہیں۔ ان کے مطابق ایک حقیقی سیاسی رہنما کو مشکل حالات میں میدان میں موجود رہ کر عوام کی قیادت کرنی چاہیے اور انہیں درست حقائق سے آگاہ کرنا چاہیے۔
وزیر داخلہ بلوچستان نے کہا کہ پشتون عوام کو اصل حقائق اور سچائی سے آگاہ کرنے کے بجائے غلط راستہ دکھانا پشتون دوستی نہیں بلکہ پشتونوں سے کھلی دشمنی کے مترادف ہے۔ انہوں نے سیاسی قیادت پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کیا جائے۔
میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال ایک سنجیدہ معاملہ ہے اور اس پر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے حقیقت پسندانہ طرزِ عمل اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ریاستی اداروں اور سیاسی قیادت کو واضح مؤقف کے ساتھ عوام کے سامنے آنا ہوگا۔
وزیر داخلہ بلوچستان کے اس بیان کے بعد محمود خان اچکزئی کے مؤقف اور دہشت گردی کے حالیہ واقعات پر سیاسی حلقوں میں بحث مزید تیز ہونے کا امکان ہے۔