حکومت کی جانب سے مالی سال 27-2026 کے بجٹ میں موبائل فونز پر ‘پی ٹی اے’ ٹیکس قسطوں میں ادا کرنے کا اعلان 2 ماہ گزرنے کے باوجود محض کاغذی کارروائی تک محدود ہے۔
قانون لاگو ہونے کے باوجود تاحال کوئی واضح طریقہ کار وضع نہیں کیا جا سکا، جس کے باعث مہنگے سمارٹ فونز کے خریدار شدید تذبذب کا شکار ہیں۔
تفصیلی خبر اور محکموں کا ابہام
حکومت نے 23 جون 2026 کو عوام کو خوشخبری سنائی تھی کہ اب مہنگے اور فلیگ شپ موبائل فونز پر عائد بھاری ٹیکس یکمشت ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
یہ قانون فنانس ایکٹ کے تحت یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل تو ہو گیا، لیکن اس میں ایک بڑی خامی یہ رہ گئی کہ قسطوں کی ادائیگی کا اصل طریقہ کار الگ سے وضع کرنے کا کہا گیا، جو آج تک سامنے نہیں آ سکا۔
جون کے اواخر میں یہ افواہیں بھی گردش کرنے لگیں کہ قسطوں کا نظام شروع ہو چکا ہے، تاہم ‘پرو پاکستانی’ کی فیکٹ چیک رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ نہ تو ایسا کوئی نظام نافذ ہوا ہے اور نہ ہی ‘پی ٹی اے’ نے ادائیگی کا کوئی طریقہ کار متعارف کرایا ہے۔
جعلی نوٹیفکیشن اور ‘ڈربز’ سسٹم کی حقیقت
اس تمام ابہام میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب 3 جولائی کو ایک جعلی نوٹیفکیشن وائرل ہوا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ڈیوائس آئیڈنٹیفکیشن، رجسٹریشن اینڈ بلاکنگ سسٹم (‘ڈربز’) کے ذریعے ٹیکس قسطوں میں ادا کیا جا سکتا ہے۔
‘پی ٹی اے’ نے فوری طور پر اس کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ ٹیکس کا تعین، نفاذ اور وصولی ‘ایف بی آر’ کے دائرہ کار میں آتی ہے۔ حیران کن طور پر، خود ٹیکس افسران بھی اس نئی پالیسی کے طریقہ کار سے مکمل طور پر لاعلم نظر آتے ہیں۔
بھاری ٹیکس اور عوام کی مجبوریاں
درآمد شدہ فلیگ شپ موبائل فونز پر لاکھوں روپے (6 ہندسوں) میں ٹیکس عائد ہوتا ہے، جو ایک عام شہری کے لیے یکمشت ادا کرنا انتہائی مشکل ہے۔
اس پالیسی کا بنیادی مقصد عوام کو فوری بوجھ سے نجات دلانا اور ٹیکس کی ادائیگی کو اسی مالی سال کے اندر ممکن بنانا تھا جس میں فون درآمد کیا گیا ہو۔ یہ خیال بظاہر بہت سادہ اور عوام دوست تھا، لیکن عمل درآمد نہ ہونے سے اس کی تمام افادیت ختم ہو کر رہ گئی ہے۔
حکومتی غفلت اور معاشی نقصانات
یہ صورتحال حکومتی اداروں کے درمیان ہم آہنگی کے فقدان اور ناقص منصوبہ بندی کی واضح عکاسی کرتی ہے۔ جب تک ایک فعال اور شفاف نظام موجود نہیں، قسطوں کی سہولت کا یہ اعلان محض ایک کھوکھلا وعدہ ہے۔
اب تک یہ واضح نہیں کہ کتنی قسطیں ہوں گی، اہلیت کا معیار کیا ہوگا اور اس کا رجسٹریشن سے کیا تعلق ہوگا۔
اس تاخیر کا سب سے بڑا نقصان خود حکومت کو ہو رہا ہے کیونکہ شہری بھاری ٹیکس سے بچنے کے لیے نان ‘پی ٹی اے’ فونز استعمال کر رہے ہیں اور ساتھ ہی سستے رجسٹرڈ فونز کو پرائمری ڈیوائس کے طور پر رکھ رہے ہیں۔
کیا آپ کے خیال میں متعلقہ ادارے جلد اس نظام کو فعال کر کے عوام کو یہ سہولت فراہم کر سکیں گے یا یہ منصوبہ بھی سرخ فیتے کی نذر ہو جائے گا؟