عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں نمایاں بہتری کرتے ہوئے اسے Caa1 سے بڑھا کر B3 کردیا ہے۔ موڈیز نے پاکستان کے معاشی آؤٹ لک کو بھی مستحکم (Stable) برقرار رکھا ہے۔
موڈیز کے مطابق پاکستان کی مقامی اور غیر ملکی کرنسی میں جاری کنندہ ریٹنگ کو Caa1 سے B3 کیا گیا ہے، جبکہ سینئر غیر محفوظ قرضوں کی ریٹنگ بھی بہتر کی گئی ہے۔ اس پیش رفت کو پاکستان کی معاشی اور مالیاتی صورتحال میں بہتری کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
بیرونی خطرات میں کمی
ریٹنگ میں اضافے کی اہم وجوہات میں پاکستان کی بیرونی مالی پوزیشن میں بہتری، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ، معاشی استحکام اور قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت میں بہتری شامل ہیں،موڈیز کا کہنا ہے کہ گورننس میں بہتری بھی حکومت کو بیرونی شعبے میں حاصل ہونے والی پیش رفت برقرار رکھنے اور مالیاتی اشاریوں کو مضبوط بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔
کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کے لیے عالمی مالیاتی منڈیوں تک رسائی نسبتاً آسان ہوسکتی ہے۔ بہتر ریٹنگ عالمی سرمایہ کاروں اور قرض دہندگان کے اعتماد میں اضافہ کرتی ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان مستقبل میں بیرونی مارکیٹ سے نسبتاً بہتر شرائط پر قرض حاصل کرنے کی پوزیشن میں آسکتا ہے۔
ایس اینڈ پی کے بعد موڈیز کا اپ گریڈ
موڈیز کی جانب سے تازہ اپ گریڈ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ ماہ ایس اینڈ پی گلوبل نے بھی پاکستان کی طویل مدتی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ B- سے بڑھا کر B کردی تھی اور آؤٹ لک مستحکم رکھا تھا، یوں دونوں بڑی عالمی ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ پروفائل میں بہتری سامنے آئی ہے۔
ماہرین کے مطابق موڈیز کی تازہ درجہ بندی پاکستان کے لیے عالمی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں مزید اضافے کا باعث بن سکتی ہے، تاہم بہتر ریٹنگ کو برقرار رکھنے کے لیے مالیاتی نظم و ضبط، بیرونی ذخائر اور معاشی اصلاحات کے تسلسل کو برقرار رکھنا اہم ہوگا۔