سیاسی میدان سے بڑی خبر، مولانا فضل الرحمان اور اپوزیشن کا نیا اتحاد بنانے پر اتفاق

سیاسی میدان سے بڑی خبر، مولانا فضل الرحمان اور اپوزیشن کا نیا اتحاد بنانے پر اتفاق

جمعیت علمائے اسلام پاکستان اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے درمیان متحدہ اپوزیشن کے قیام پر اتفاق ہوگیا ہے، جس کا باقاعدہ آغاز پارلیمنٹ سے کیا جائے گا۔ اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کو پارلیمنٹ کے اندر مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے جواب دینے اور آئندہ کے لائحہ عمل پر مزید مشاورت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے دیگر اپوزیشن رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے متحدہ اپوزیشن کے قیام کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ پہلی نشست ہوئی جس میں متحدہ اپوزیشن بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاہم یہ ابتدائی مشاورت ہے اور آئندہ مزید بات چیت ہوگی۔

اس سے قبل جمعیت علمائے اسلام اور تحریک تحفظ آئین پاکستان سے وابستہ اپوزیشن رہنماؤں کے درمیان اہم ملاقات ہوئی جس میں موجودہ سیاسی صورتحال پارلیمانی معاملات اور حکومت کے خلاف مشترکہ حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق اپوزیشن جماعتوں کا مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس کل طلب کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ کو متحدہ اپوزیشن کے قیام اور آئندہ کے سیاسی و پارلیمانی لائحہ عمل سے آگاہ کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کیلئے پی ٹی آئی نے ڈیڈ لائن دے دی، بڑا اعلان

ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن اتحاد کے رہنما مولانا فضل الرحمان سے بھی ملاقات کریں گے جس میں حکومت کے خلاف پارلیمنٹ میں مشترکہ حکمت عملی اور دیگر اہم سیاسی معاملات پر مشاورت کی جائے گی۔

ملاقات کے دوران بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت کے معاملے پر بھی گفتگو ہوئی۔ ذرائع کے مطابق اپوزیشن رہنماؤں نے عمران خان کی صحت اور سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

متحدہ اپوزیشن میں پاکستان پیپلز پارٹی کی شمولیت سے متعلق سوال پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پیپلز پارٹی اس وقت حکومت کا حصہ ہے جبکہ وہ اپوزیشن کی بات کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی معاملات پر مزید مشاورت کی ضرورت ہے اور آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد کے معاملے پر بھی بات ہونی چاہیے۔

مولانا فضل الرحمان سے جب صحافی نے سوال کیا کہ اپوزیشن جماعتیں حکومت کے خلاف صرف پارلیمنٹ میں ساتھ دیں گی یا سڑکوں پر بھی مشترکہ جدوجہد کریں گی تو انہوں نے دلچسپ انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا

ہم سورۃ فاتحہ پڑھتے ہیں اور آپ سورۃ الناس پر پہنچ جاتے ہیں۔

ان کے اس جواب سے واضح ہوتا ہے کہ اپوزیشن اتحاد نے فی الحال اپنی توجہ پارلیمانی سطح پر مشترکہ حکمت عملی بنانے پر مرکوز رکھی ہے جبکہ احتجاجی سیاست اور آئندہ کے لائحہ عمل پر مزید مشاورت کی جائے گی۔

متحدہ اپوزیشن کے قیام سے پارلیمنٹ میں اپوزیشن جماعتوں کے درمیان رابطہ اور تعاون بڑھنے کا امکان ہے جبکہ آئندہ اجلاسوں میں حکومت کے خلاف مشترکہ حکمت عملی قانون سازی اور دیگر اہم قومی و سیاسی معاملات پر مشترکہ مؤقف اختیار کیے جانے کی توقع ہے

Qaisar Mirza
editor

Related Articles