دریا صاف کرنے والے رضاکار کے خلاف ایکشن، آخر ایسا کیا جرم ہوگیا؟

دریا صاف کرنے والے رضاکار کے خلاف ایکشن، آخر ایسا کیا جرم ہوگیا؟

برطانیہ میں آلودہ ندی کی صفائی کے لیے رضاکاروں کی مہم نے ایک غیر معمولی قانونی تنازع کھڑا کردیا ہے۔

ایسٹ لندن کے علاقے میں  الڈرز بروک کی صفائی کے دوران ماحولیاتی کارکن پال پاولز لینڈ کی قیادت میں رضاکاروں نے 10 روز تک کام کیا اور ندی سے تقریباً 200 بیگ کچرا، شاخیں اور گاد نکالی۔

تاہم صفائی کے بعد برطانیہ کی انوئیرمینٹل ایجنسی  نے اس کام کی تحقیقات شروع کردیں۔ ادارے کے مطابق ندی میں گاد نکالنے اور سیلابی علاقے میں بعض مواد رکھنے جیسے کاموں کے لیے مخصوص ماحولیاتی اجازت نامہ درکار ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:صاف ہوا کے لیے لگائے گئے درخت ہی اوزون آلودگی بڑھانے لگے؟

ایجنسی نے کہا ہے کہ بغیر اجازت کیے گئے کام ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آسکتے ہیں اور ایسے معاملے میں قانونی کارروائی کی گنجائش موجود ہے۔ بغیر مطلوبہ اجازت کے بعض فلڈ رسک سرگرمیوں پر زیادہ سے زیادہ 2 سال قید کی سزا بھی قانون میں موجود ہے، تاہم پال پاولز لینڈ کو اب تک کسی جرم میں سزا نہیں ہوئی اور ایجنسی نے واضح کیا ہے کہ ابھی پراسیکیوشن کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

پاولز لینڈ کا مؤقف ہے کہ انہوں نے کئی برس تک حکام سے ندی کی صفائی کی درخواست کی، لیکن مناسب کارروائی نہ ہونے پر رضاکاروں کے ساتھ خود صفائی کا فیصلہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں:نہ کرین، نہ مشین، پھر 400 ٹن کا محل کیسے منتقل ہوا ؟حیران کن طریقہ سامنے آگیا

دوسری جانب انوئیرمینٹل ایجنسی کا کہنا ہے کہ اجازت نامے کا نظام اس لیے موجود ہے تاکہ ندیوں میں کیے جانے والے کام سے سیلاب، نکاسی آب یا ماحول کو غیر ارادی نقصان نہ پہنچے۔ یہ واقعہ برطانیہ میں ماحول کی بہتری کے لیے شہریوں کی رضاکارانہ کوششوں اور ماحولیاتی قوانین کے درمیان توازن پر ایک نئی بحث کا باعث بن گیا ہے۔

editor

Related Articles