حکومت نے ملکی ریفائنریوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی اربوں ڈالر مالیت کی ’پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی 2023‘ پر عملدرآمد کی ذمہ داری باضابطہ طور پر سرکاری کمپنی ‘انٹر اسٹیٹ گیس سسٹمز’ (آئی ایس جی ایس) کو سونپ دی ہے۔
یہ فیصلہ پیٹرولیم ڈویژن کی بیوروکریسی کی جانب سے اس بھاری منصوبے کو براہِ راست سنبھالنے سے گریز کے بعد کیا گیا ہے، جس پر اب متعلقہ حلقوں کی جانب سے اس ادارے کی تکنیکی استعداد پر سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
پیٹرولیم ڈویژن کا باضابطہ نوٹیفکیشن اور نئے اختیارات
پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے 24 اگست 2026 کو جاری کردہ ایک مراسلے کے مطابق موجودہ اور براؤن فیلڈ ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن کے لیے ‘آئی ایس جی ایس’ کو پالیسی کے نفاذ کا مجاز ادارہ مقرر کر دیا گیا ہے۔
خط میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ فیصلہ 17 اگست کو سیکریٹری پیٹرولیم کی زیرِ صدارت ہونے والے ایک اہم اجلاس میں کیا گیا۔
اس پیش رفت کے بعد آئی ایس جی ایس کو اس پورے اپ گریڈیشن پروگرام میں مرکزی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ اب یہ ادارہ ریفائنریوں کے ساتھ اپ گریڈیشن کے معاہدے کرنے، ریفائنری اپ گریڈ اکاؤنٹس کھولنے، منصوبوں کی نگرانی کرنے، کنسلٹنٹس اور آڈیٹرز کی خدمات حاصل کرنے اور اپ گریڈ اکاؤنٹس سے مراعاتی ادائیگیاں کرنے کا مکمل مجاز ہوگا۔
بیوروکریسی کا گریز اور اوگرا سے منتقلی
میڈیا کے مطابق ابتدا میں اس پالیسی کی نگرانی اور عملدرآمد کا کام ‘اوگرا’ (آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی) اور پیٹرولیم ڈویژن کے پاس تھا، لیکن اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اور اس کے ساتھ جڑی پیچیدگیوں کے باعث بیوروکریسی نے اس منصوبے کو براہِ راست ہینڈل کرنے میں شدید ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا۔
افسران اس پالیسی پر عملدرآمد اور مانیٹرنگ کی بھاری ذمہ داری اٹھانے کو تیار نہیں تھے، جس کے بعد اس کا پورا بوجھ ایک سرکاری کمپنی کے کندھوں پر ڈال دیا گیا۔
انڈسٹری حکام کے تحفظات اور استعداد پر سوالات
نئی پالیسی کے تحت ہموار عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے تکنیکی اور مالیاتی ماہرین پر مشتمل ایک پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ (پی ایم یو) کے قیام کی بھی شرط رکھی گئی ہے۔
تاہم انڈسٹری حکام نے اس اچانک منتقلی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ریفائنری کی جدید کاری انتہائی پیچیدہ تکنیکی اور مالیاتی چیلنجز پر مبنی ہے۔
انڈسٹری ذرائع نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ آیا گیس کے شعبے سے تعلق رکھنے والی کمپنی ’آئی ایس جی ایس‘ کے پاس ریفائنریوں جیسے تکنیکی اور وسیع تر منصوبوں کی نگرانی کے لیے درکار مطلوبہ مہارت اور وسائل موجود ہیں یا نہیں؟
’پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی برائے براؤن فیلڈ ریفائنریز 2023‘ کا بنیادی مقصد پاکستان میں کام کرنے والی پرانی ریفائنریوں کو جدید ٹیکنالوجی پر منتقل کرنا ہے۔
اس پالیسی کے تحت ریفائنریاں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر کے ماحولیات دوست اور عالمی معیار (جیسے یورو فائیو) کا ایندھن تیار کرنے کے قابل بنیں گی اور فرنس آئل کی پیداوار میں کمی لائی جائے گی۔
اس منصوبے کو کامیاب بنانے کے لیے حکومت کی جانب سے ایک مخصوص مدت کے لیے مالی مراعات اور ایسکرو اکاؤنٹس کے قیام کا ماڈل پیش کیا گیا تھا، جس کی کڑی نگرانی ضروری تھی۔
کسی بھی میگا پراجیکٹ سے بیوروکریسی کا کنارہ کش ہونا پاکستان کے انتظامی ڈھانچے کی ایک پرانی خامی کی نشاندہی کرتا ہے۔ مستقبل کی ممکنہ احتسابی کارروائیوں اور اربوں ڈالر کے حساب کتاب سے بچنے کے لیے ذمہ داری کسی دوسرے ادارے پر ڈالنا ایک روایتی حربہ بن چکا ہے۔
‘آئی ایس جی ایس’ بنیادی طور پر بین الاقوامی گیس پائپ لائنز کے منصوبوں کے لیے قائم کی گئی کمپنی ہے، جسے اب آئل ریفائنریوں کی تکنیکی اپ گریڈیشن کا ٹاسک دے دیا گیا ہے۔
یہاں یہ امر انتہائی قابلِ غور ہے کہ ریفائنریوں کی جدید کاری اور اس کے لیے قائم ہونے والے فنڈز کا انتظام کوئی معمولی کام نہیں ہے۔
اگر مقرر کردہ ادارے کے پاس پیٹرو کیمیکل اور ریفائننگ کے شعبے کی ٹھوس تکنیکی مہارت نہ ہوئی تو یہ اربوں ڈالر کا منصوبہ نہ صرف التوا کا شکار ہو سکتا ہے، بلکہ ملکی توانائی کے تحفظ کے لیے وضع کی گئی یہ بہترین پالیسی بھی سرخ فیتے کی نذر ہو سکتی ہے۔
حکومت کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ اس پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ میں واقعی وہ ماہرین شامل ہوں جو اس پیچیدہ انڈسٹری کو سمجھتے ہوں، بصورت دیگر یہ تبدیلی صرف فائلوں کا پیٹ بھرنے کے سوا کچھ ثابت نہیں ہوگی۔