رواں سال نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل صدر ٹرمپ کو ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کے قواعد میں تبدیلیوں کی اجازت مل گئی ہے۔
امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، سپریم کورٹ نے 6-3 سے ماتحت عدالت کا فیصلہ مسترد کر دیا ہے، جس کے بعد محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے لیے اہل ووٹرز کی وفاقی فہرست مرتب کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
دی گارڈین کے مطابق امریکی سپریم کورٹ کی 6-3 کی قدامت پسند اکثریت نے ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے صدر ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر کے خلاف دی گئی حکم امتناعی کو ختم کر دیا ہے۔
قبل ازیں، جیسا کہ دی سٹریٹس ٹائمز نے رپورٹ کیا تھا، میساچوسٹس کی ایک وفاقی عدالت نے 23 ریاستوں کی درخواست پر اس صدارتی حکم نامے کو عارضی طور پر روک دیا تھا۔
اب اس عدالتی اقدام سے ٹرمپ انتظامیہ کو یہ اختیار مل گیا ہے کہ وہ ڈاک کے ذریعے ڈالے جانے والے ووٹوں کو محدود کرنے کے اپنے منصوبے پر آگے بڑھ سکے۔
صدارتی حکم نامہ اور ہوم لینڈ سیکیورٹی کا کردار
اس صدارتی حکم نامے کے تحت امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ہر ریاست میں ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کے لیے اہل شہریوں کی ایک وفاقی فہرست مرتب کرے۔
الجزیرہ نیوز کی تفصیلات کے مطابق امریکی پوسٹل سروس صرف انہی افراد کو میل ان بیلٹ (ووٹنگ کا پرچہ) فراہم کرے گی جن کے نام اس تصدیق شدہ وفاقی فہرست میں شامل ہوں گے۔ وائٹ ہاؤس نے اس عدالتی پیش رفت کو امریکی انتخابات کی سیکیورٹی کے لیے ایک ‘بڑی جیت’ قرار دیا ہے۔
ڈیموکریٹس کا ردعمل اور خدشات
اس فیصلے پر ڈیموکریٹک پارٹی اور ووٹنگ کے حقوق کے کارکنوں نے شدید تنقید کی ہے، جن کا موقف ہے کہ عین الیکشن کے قریب اتنی بڑی تبدیلی ووٹرز کو ان کے حقِ رائے دہی سے محروم کرنے کی دانستہ کوشش ہے۔
دی گارڈین کے مطابق، ریاست کیلیفورنیا اور دیگر ڈیموکریٹک ریاستوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس اقدام کو روکنے کے لیے دوبارہ عدالت سے رجوع کریں گے کیونکہ ان کے خیال میں الیکشن کے قواعد طے کرنا وفاق کا نہیں بلکہ ریاستوں کا آئینی حق ہے۔
صدر ٹرمپ طویل عرصے سے ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں اور ان کا دعویٰ رہا ہے کہ اس طریقہ کار سے الیکشن میں دھوکہ دہی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
رواں سال مارچ میں انہوں نے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے ووٹرز کی اہلیت جانچنے کے لیے وفاقی فہرستیں بنانے کا حکم دیا تھا۔
الجزیرہ نیوز کے مطابق 23 ریاستوں نے اس حکم نامے کو یہ کہہ کر چیلنج کیا تھا کہ آئین کے تحت الیکشن کرانے کا اختیار ریاستی حکومتوں اور کانگریس کے پاس ہے۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات پر گہرے اور دور رس اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
دی گارڈین کے بتائے گئے اعداد و شمار کے مطابق، ڈیموکریٹک ووٹرز ریپبلکنز کے مقابلے میں ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کا زیادہ رجحان رکھتے ہیں، اس لیے ان قواعد کی سختی براہ راست ٹرن آؤٹ کو متاثر کر سکتی ہے۔
اگرچہ عدالت نے فی الحال ایک حکم امتناعی ہٹایا ہے، لیکن 3 لبرل ججوں کے اختلافی نوٹ اور اکثریتی فیصلے کی محتاط زبان سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ یہ قانونی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔
یہ فیصلہ ایک طرف ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک بڑی سٹریٹجک فتح ہے، تو دوسری جانب یہ وفاق اور ریاستوں کے درمیان اختیارات کی طویل اور پیچیدہ کشمکش کو جنم دے رہا ہے۔