امریکا کا ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا آپشن کھلا رکھنے کا اعلان

امریکا کا ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا آپشن کھلا رکھنے کا اعلان

امریکا نے ایران کے خلاف سخت معاشی پابندیوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے کسی بھی وقت دوبارہ مسلح کارروائی کرنے کا آپشن مکمل طور پر کھلا رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ کے مطابق تہران پر معاشی دباؤ انتہائی مؤثر ثابت ہو رہا ہے اور اب اس کے پاس مذاکرات کی میز پر آنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا۔

دوسری جانب امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے عالمی برادری کو فی الوقت مزید براہِ راست فوجی حملوں کے بجائے معاشی ذرائع سے دباؤ بڑھانے کی حکمتِ عملی سے آگاہ کیا ہے۔

آبنائے ہرمز پر کنٹرول اور فوجی کارروائی کی حتمی دھمکی

امریکی ریاست وسکونسن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جس کے بعد وہاں سے تیل کی عالمی ترسیل کو بحال کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا نے دنیا بھر میں ویزا اپائنٹمنٹس عارضی طور پر روک دیں ، وجہ کیا بنی ؟

انہوں نے اپنے بیان میں واضح اور دباؤ سے بھرپور الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف اپنے حملے بند نہیں کیے ہیں اور اگر حالات کے مطابق ضرورت محسوس ہوئی تو آئندہ کسی بھی وقت مسلح کارروائی کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت تہران پر عائد کی گئی سخت معاشی پابندیاں اسے شدید مالی و معاشی نقصان پہنچا رہی ہیں، جس کے باعث ایران کے پاس اب امریکہ سے بات چیت کرنے کے علاوہ کوئی اور راستہ باقی نہیں رہا۔

واشنگٹن کی سفارتی حکمتِ عملی، مارکو روبیو کا مؤقف

پیٹ ہیگسیتھ کے اس سخت بیان کے برعکس، امریکی میڈیا کی سامنے آنے والی ایک رپورٹ میں ایک اہم سفارتی پیش رفت کا انکشاف کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے حالیہ دنوں میں متعدد دوست اور اہم ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطہ کیا ہے اور انہیں اس بات سے مطلع کیا ہے کہ فی الحال ایران کے خلاف مزید امریکی فوجی حملوں کا کوئی امکان نہیں ہے۔

واشنگٹن نے اپنی موجودہ حکمتِ عملی میں براہِ راست فوجی تصادم کے بجائے معاشی پابندیوں اور دیگر سفارتی ذرائع سے تہران پر گھیرا تنگ کرنے پر اپنی تمام تر توجہ مرکوز کر لی ہے۔

معاشی شکنجہ اور رواں ہفتے کی نئی پابندیاں

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے مطابق، امریکا اس وقت ایران کو اپنے مطالبات ماننے پر مجبور کرنے کے لیے غیر فوجی اور دیگر مؤثر طریقوں پر کام کر رہا ہے۔

اسی حکمتِ عملی کے ایک حصے کے طور پر رواں ہفتے ہی ایران کے خلاف ایک نئی اور شدید معاشی پابندیوں کی مہم کا باقاعدہ اعلان بھی کیا گیا ہے۔ امریکی انتظامیہ کا ماننا ہے کہ معاشی ناکہ بندی اور عالمی سطح پر الگ تھلگ کرنے کی یہ کوششیں تہران پر براہِ راست حملوں سے زیادہ کارگر ثابت ہو سکتی ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں فوجی تناؤ اور معاشی جنگ

اگر گزشتہ کچھ عرصے کے واقعات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات شدید کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔

آبنائے ہرمز عالمی تجارتی نقطہ نظر سے انتہائی حساس شاہراہ ہے، جہاں سے دنیا کا ایک بڑا معاشی و تحریکی دارومدار خام تیل کی صورت میں گزرتا ہے۔

مزید پڑھیں:امریکی سکھ تنظیمیں آر ایس ایس کے خلاف ڈٹ گئیں، موہن بھاگوت کے امریکا داخلے پر پابندی کا مطالبہ

ماضی میں بھی امریکی انتظامیہ نے ایران کے خلاف فوجی دھمکیوں اور سخت ترین معاشی پابندیوں کا یکجا استعمال کیا ہے تاکہ تہران کے ایٹمی اور علاقائی اثر و رسوخ کو محدود کیا جا سکے۔ حالیہ پیش رفت اسی طویل جنگی و سفارتی تنازع کا ایک تسلسل ہے جہاں واشنگٹن اپنے تمام تمام حربے ایک ساتھ استعمال کر رہا ہے۔

کیا امریکی بیانات میں تضاد ہے یا یہ سوچی سمجھی پالیسی ہے؟

اگر امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ اور وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے بیانات کو ایک ساتھ رکھ کر دیکھا جائے تو بظاہر ان میں ایک تضاد محسوس ہوتا ہے، مگر درحقیقت یہ واشنگٹن کی سوچی سمجھی ‘نرم و گرم’ (گڈ کاپ، بیڈ کاپ) حکمتِ عملی کا کلاسک نمونہ ہے۔

ایک طرف امریکی وزیرِ جنگ فوجی آپشن کو زندہ رکھ کر اور حملوں کی دھمکی دے کر تہران پر شدید نفسیاتی و عسکری دباؤ قائم رکھنا چاہتے ہیں، تو دوسری طرف وزیرِ خارجہ مارکو روبیو عالمی اتحادیوں کو کسی بڑی اور طویل جنگ کے خدشات سے تسلی دے کر معاشی پابندیوں کے جال کو مزید مضبوط بنا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا کی سخت پابندیوں کے سامنے ثابت قدم ہیں اور رہیں گے،ایرانی صدر

آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا دعویٰ اور معاشی پابندیوں کا نیا سلسلہ اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ امریکا فی الوقت بغیر کسی بڑے فوجی نقصان کے ایران کو معاشی طور پر مفلوج کر کے مذاکرات کی میز پر لانا چاہتا ہے۔

تاہم پیٹ ہیگسیتھ کا یہ بیان کہ ‘حملے ختم نہیں ہوئے’ اس بات کی ضمانت ہے کہ اگر معاشی دباؤ سے نتائج حاصل نہ ہوئے یا تہران نے کوئی جواب دیا، تو امریکا فوراً اپنے فوجی ہتھیار استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔ یہ دہرائی پالیسی ایران کو فوری سفارتی راستہ چننے پر مجبور کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔

Related Articles