امریکا اقتصادی دباؤ سے اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکتا، پابندیوں سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں، ایرانی صدر

امریکا اقتصادی دباؤ سے اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکتا، پابندیوں سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں، ایرانی صدر

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ امریکا اقتصادی دباؤ سے ایران سے اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکتا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران امریکی پابندیوں اور دباؤ کے باوجود اپنی پالیسی پر قائم رہے گا، نئی امریکی اقتصادی پابندیوں سے نمٹنے کیلئے اقدامات تیار ہیں، امریکا جنگ میں مقاصد حاصل نہ کرسکا، اقتصادی دباؤ بھی ناکام ہوگا۔

صدر پزشکیان نے کہا کہ اقتصادی دباؤ کے مقابلے میں ایران اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا، حکومت اور نجی شعبہ مارکیٹ مستحکم رکھنے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔

ایرانی صدر کا مزید کہنا ہے کہ مشکل حالات کے باوجود عوام کی بنیادی ضروریات پوری کی جارہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : ایران کسی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا، اپنا دفاع کرینگے ، صدرپزشکیان

ایرانی وزیرخارجہ نے  پابندیوں کو معاشی دہشتگردی قرار دیدیا

قبل ازیں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے نئی امریکی پابندیوں کو ریاستی اور معاشی دہشت گردی کا اقدام قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، سلامتی کونسل اور تمام رکن ممالک کو خط لکھ دیا۔

انہوں نے کہا کہ امریکا جنگ کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے یا دیگر ممالک کو اپنی مہم میں شامل کرنے میں ناکامی کے بعد اب ایران کے دیگر ممالک کے ساتھ جائز اقتصادی تعلقات منقطع کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ پابندیاں جان بوجھ کر شہریوں کو نقصان پہنچاتی ہیں، کیونکہ ان کے باعث خوراک، ادویات، طبی آلات، توانائی اور دیگر بنیادی ضروریات تک رسائی محدود ہوتی ہے، جو زندگی، صحت، خوراک اور مناسب معیارِ زندگی سمیت بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ایرانی حکومت نے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورے کو نتیجہ خیز اورسود مند قرار دیدیا

ایران نے سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کے رکن ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکا کی جانب سے عائد کی گئی یکطرفہ جبری پابندیوں اور ثانوی پابندیوں کی مذمت اور انہیں مسترد کریں۔

مشرقِ وسطیٰ میں فوجی تناؤ اور معاشی جنگ

اگر گزشتہ کچھ عرصے کے واقعات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات شدید کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔

آبنائے ہرمز عالمی تجارتی نقطہ نظر سے انتہائی حساس شاہراہ ہے، جہاں سے دنیا کا ایک بڑا معاشی و تحریکی دارومدار خام تیل کی صورت میں گزرتا ہے، ماضی میں بھی امریکی انتظامیہ نے ایران کے خلاف فوجی دھمکیوں اور سخت ترین معاشی پابندیوں کا یکجا استعمال کیا ہے تاکہ تہران کے ایٹمی اور علاقائی اثر و رسوخ کو محدود کیا جا سکے، حالیہ پیش رفت اسی طویل جنگی و سفارتی تنازع کا ایک تسلسل ہے جہاں واشنگٹن اپنے تمام تمام حربے ایک ساتھ استعمال کر رہا ہے۔

editor

Related Articles