وفاقی دارالحکومت کے پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے واقعے کے بعد وفاقی وزیر صحت اور ڈاکٹروں کے بیانات میں تضاد سامنے آگیا ہے جبکہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے پمز کا دورہ کرکے واقعے کی تحقیقات اور ذمہ داروں کے تعین کا مطالبہ کردیا۔
میڈیا کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی جانب سے آتشزدگی کی وجہ کے حوالے سے بتایا گیا کہ ایئرکنڈیشن سے چنگاری گری تاہم گائناکالوجسٹ نے اس دعوے سے مختلف مؤقف اختیار کرتے ہوئے بتایا کہ اسپارک اے سی سے نہیں بلکہ تاروں کے گچھے سے ہوا۔
بیانات میں سامنے آنے والے اس تضاد نے پمز نرسری میں آتشزدگی کی اصل وجہ کے حوالے سے مزید سوالات اٹھا دیے ہیں۔
قائمہ کمیٹی برائے صحت کے چیئرمین مہیش کمار نے پروگرام دی رپورٹرز میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی ارکان نے نرسوں سے واقعے کے بارے میں سوالات کیے تو ان کے جوابات سے محسوس ہوا کہ وہ کنفیوز تھیں۔
مہیش کمار کے مطابق ایسا محسوس ہوا کہ نرسوں کو ممکنہ طور پر پہلے سے جوابات بتائے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی حقیقت جاننے کے لیے تحقیقات ضروری ہیں تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ واقعے کے وقت اصل صورتحال کیا تھی اور کس نے کیا اقدامات کیے۔
قائمہ کمیٹی کے چیئرمین نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی تینوں کمیٹیوں کی رپورٹس 48 گھنٹے میں سامنے آنی چاہئیں تاکہ پوری قوم اور قائمہ کمیٹی حقائق دیکھ سکے۔
انہوں نے کہا کہ قائمہ کمیٹی بھی رپورٹس کا جائزہ لے گی اور یہ دیکھا جائے گا کہ تحقیقات میں سامنے آنے والے نتائج میں کتنی صداقت ہے اور ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔
واقعے کے بعد قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے پمز اسپتال کا دورہ بھی کیا۔ کمیٹی ارکان نے اسپتال میں فائر سیفٹی انتظامات، نرسری کی صورتحال اور واقعے سے متعلق مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا۔
دورے کے دوران کمیٹی ارکان نے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال اور سربراہ پمز سے استعفے کا مطالبہ بھی کیا۔
واضح رہے کہ پمز اسپتال کی نرسری میں گزشتہ روز آتشزدگی کے المناک واقعے میں 14 نومولود جاں بحق ہوگئے تھے، جبکہ ایک نومولود کو اس کی خالہ نے بروقت کوشش کرکے بچا لیا تھا۔
واقعے کے بعد اسپتال کے حفاظتی انتظامات ایمرجنسی رسپانس، فائر سیفٹی، نرسری کے انتظامات اور ذمہ دار افسران کے کردار پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔
اب وزیر صحت اور ڈاکٹر کے بیانات میں آتشزدگی کی وجہ کے حوالے سے سامنے آنے والے تضاد نے بھی تحقیقات کی اہمیت مزید بڑھا دی ہے۔ قائمہ کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ تحقیقات کی رپورٹس سامنے آنے کے بعد اصل حقائق اور ذمہ داروں کا تعین ہونا چاہیے۔