پمز اسپتال کی نرسری میں پیش آنے والے المناک آتشزدگی کے واقعے سے متعلق وزیراعظم کی قائم کردہ تحقیقاتی کمیٹی نے عبوری رپورٹ تیار کرلی جس میں اسپتال کے حفاظتی انتظامات اور ریسکیو آپریشن کے دوران پیش آنے والی مشکلات سے متعلق اہم نکات سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ آج وزیراعظم کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ کمیٹی نے واقعے کی تحقیقات کے دوران اسپتال کے عملے اور متعلقہ افسران کے بیانات ریکارڈ کیے جبکہ آگ لگنے کی اطلاع ملنے سے لے کر فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیموں کے پہنچنے تک کی مکمل ٹائم لائن کا بھی جائزہ لیا۔
ریسکیو ٹیم کو تالوں اور رکاوٹوں کا سامنا
ذرائع کے مطابق عبوری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ریسکیو ٹیموں کو اسپتال کے اندر پہنچنے کے دوران شدید رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔
رپورٹ کے مطابق بعض مقامات پر تالے لگے ہوئے تھے جس کے باعث ریسکیو کارروائی میں مشکلات پیش آئیں۔ صورتحال اس قدر پیچیدہ تھی کہ ریسکیو ٹیم کو اندر داخل ہونے کے لیے دیواریں توڑنا پڑیں۔
ٹیکنیکل اسٹاف موجود نہیں تھا
عبوری رپورٹ میں اسپتال کے انتظامی اور فائر سیفٹی انتظامات پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں واقعے کے وقت ضروری ٹیکنیکل اسٹاف موجود نہیں تھا جبکہ آگ سے نمٹنے کے لیے مناسب آلات کی عدم دستیابی کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسپتال میں آگ بجھانے کے مناسب آلات موجود نہیں تھے یا دستیاب آلات صورتحال سے نمٹنے کے لیے کافی نہیں تھے۔
عملہ ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تربیت یافتہ نہیں تھا
تحقیقاتی کمیٹی نے اسپتال کے عملے کی تربیت کا بھی جائزہ لیا عبوری رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہسپتال کا عملہ ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے حوالے سے مناسب تربیت یافتہ نہیں تھا۔
اس معاملے کو بھی تحقیقات کا اہم حصہ بنایا گیا ہے کہ ہنگامی صورتحال میں عملے کی ذمہ داریاں کیا تھیں اور کیا انہیں نومولود بچوں سمیت مریضوں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کی تربیت حاصل تھی۔
آگ لگنے سے ریسکیو ٹیم کے پہنچنے تک ٹائم لائن کی جانچ
کمیٹی نے واقعے کی ٹائم لائن کا بھی تفصیلی جائزہ لیا ہے اس میں یہ دیکھا گیا کہ آگ کب لگی اسپتال انتظامیہ کو اطلاع کب ملی فائر بریگیڈ کو کب اطلاع دی گئی اور ریسکیو ٹیمیں کتنی دیر میں موقع پر پہنچیں۔
ذرائع کے مطابق کمیٹی نے اس بات کا بھی جائزہ لیا کہ ریسکیو ٹیموں کو اندر داخل ہونے میں کتنی دیر لگی اور راستے میں موجود رکاوٹوں نے امدادی کارروائی کو کس حد تک متاثر کیا۔
48 گھنٹے کی مدت مکمل تفصیلی رپورٹ پانچ روز میں
وزیراعظم کی جانب سے تحقیقاتی کمیٹی کو ابتدائی رپورٹ کے لیے دی گئی 48 گھنٹے کی مدت آج مکمل ہورہی ہے۔ کمیٹی عبوری رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرنے کے بعد تحقیقات کا عمل مزید جاری رکھے گی اور پانچ روز میں تفصیلی رپورٹ پیش کرے گی۔
تفصیلی رپورٹ میں واقعے کی وجوہات اسپتال انتظامیہ اور عملے کی ذمہ داری فائر سیفٹی انتظامات ایمرجنسی رسپانس اور ریسکیو آپریشن میں پیش آنے والی رکاوٹوں سمیت دیگر پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔
پمز نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود جاں بحق ہوچکے ہیں جس کے بعد واقعے کی ذمہ داری اور اسپتال کے حفاظتی انتظامات پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں وزیراعظم کی تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ میں سامنے آنے والے نکات نے معاملے کی حساسیت مزید بڑھا دی ہے