عالمی منڈی میں جمعہ کو سونے کی قیمت میں ایک بار پھر کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ سرمایہ کار امریکی فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کیون وارش کی اہم تقریر کے منتظر ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق عالمی مارکیٹ میں اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.5 فیصد کمی کے بعد 4,576.30 ڈالر فی اونس ہوگئی جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز کی قیمت بھی 0.8 فیصد کم ہوکر 4,629 ڈالر فی اونس پر آگئی۔
سونے کی قیمت رواں ہفتے کے آغاز میں تین ماہ سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی تاہم اب سرمایہ کار امریکی شرح سود اور مالیاتی پالیسی کے حوالے سے محتاط ہوگئے ہیں جس کے باعث سونے کی قیمت میں کمی دیکھی جارہی ہے۔
چاندی، پلاٹینم اور پیلیڈیم بھی سستے
سونے کے ساتھ دیگر قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں بھی کمی دیکھی گئی۔
چاندی 1 فیصد کمی کے بعد 68.54 ڈالر فی اونس ہوگئی جبکہ پیلیڈیم 0.8 فیصد کمی کے بعد 1,339.84 ڈالر پر آگیا۔
اسی طرح پلاٹینم کی قیمت میں بھی 0.6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ ہفتہ وار بنیاد پر بھی کمی کی جانب گامزن ہے۔
کیون وارش کی تقریر اہم کیوں ہے؟
سرمایہ کاروں کی نظریں امریکی فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کیون وارش کی جیکسن ہول سمپوزیم میں ہونے والی تقریر پر ہیں۔
مارکیٹ میں یہ توقع کی جارہی ہے کہ ان کی تقریر سے امریکا میں مستقبل کی شرح سود کے بارے میں اہم اشارے مل سکتے ہیں۔
اگر فیڈ چیئرمین نے شرح سود زیادہ رکھنے یا مزید سخت مالیاتی پالیسی کا اشارہ دیا تو سونے کی قیمت پر مزید دباؤ آسکتا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ شرح سود بڑھنے سے سرمایہ کاروں کے لیے ایسے اثاثے زیادہ پرکشش ہوجاتے ہیں جن سے باقاعدہ منافع یا سود حاصل ہوتا ہے، جبکہ سونا کوئی باقاعدہ منافع یا ییلڈ نہیں دیتا۔
امریکا میں مہنگائی بھی فیڈرل ریزرو کے لیے اہم چیلنج بنی ہوئی ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق فیڈ کا اہم افراطِ زر پیمانہ جولائی تک 12 ماہ میں 3.7 فیصد رہا۔
مہنگائی بلند رہنے کی صورت میں امریکی مرکزی بینک کے لیے شرح سود میں کمی کرنا مشکل ہوسکتا ہے جس سے سونے کی قیمت پر دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔
طویل مدت میں سونے کے لیے امید
اگرچہ مختصر مدت میں سونے کی قیمت میں اتار چڑھاؤ کا امکان ہے لیکن ماہرین کے مطابق طویل مدت میں کچھ عوامل سونے کے حق میں ہیں۔
ان عوامل میں گولڈ فنڈز اور فیوچرز میں سرمایہ کاروں کی بڑھتی دلچسپی، امریکا کی مالی صورتحال سے متعلق خدشات اور مرکزی بینکوں کی جانب سے سونے کی مسلسل خریداری شامل ہیں۔
اسی وجہ سے بعض ماہرین اب بھی سونے کے 5 ہزار ڈالر فی اونس کی سطح تک پہنچنے کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق فی الحال سونے کی مارکیٹ میں امریکی شرح سود اور کیون وارش کی تقریر سب سے اہم عوامل ہیں، اس لیے آنے والے دنوں میں قیمت میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھا جاسکتا ہے۔