موبائل فون خریدنے والوں کیلئے بڑی خوشخبری آ گئی

موبائل فون خریدنے والوں کیلئے بڑی خوشخبری آ گئی

موبائل فون خریدنے کے خواہشمند صارفین کے لیے اچھی خبر ہے کہ پاکستان میں مقامی موبائل فون کی تیاری تیزی سے بڑھ رہی ہے جس سے درآمدی لاگت اور بعض ٹیکس اخراجات کم ہونے کے باعث مستقبل میں سستے موبائل فون دستیاب ہونے کی راہ ہموار ہوگئی ہے جولائی میں مقامی اسمبلنگ نے ملکی طلب کا تقریباً 97 فیصد پورا کیا۔

 جولائی 2026 میں مقامی طور پر 39 لاکھ موبائل فون تیار یا اسمبل کیے گئے جو جون کے مقابلے میں 102 فیصد اور گزشتہ سال جولائی کے مقابلے میں 9 فیصد زیادہ ہیں۔ اس کے نتیجے میں جولائی میں ملک کی موبائل فون طلب کا تقریباً 97 فیصد حصہ مقامی پیداوار سے پورا ہوا جبکہ درآمد شدہ موبائل فونز کی تعداد صرف 1 لاکھ 10 ہزار رہی۔

اس مقامی تیاری کا سب سے بڑا ممکنہ فائدہ یہ ہے کہ مکمل تیار موبائل فون بیرون ملک سے منگوانے کے بجائے فون کے پرزے یا CKD/SKD کٹس درآمد کرکے پاکستان میں اسمبل کیے جاتے ہیں جس سے درآمدی لاگت اور بعض ٹیکسوں کا بوجھ کم ہوتا ہے۔

حکومت کی 2026-33 موبائل ڈیوائس مینوفیکچرنگ پالیسی میں بھی مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے لیے CKD/SKD موبائلز پر بعض فکسڈ انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس میں رعایت دی گئی ہے جبکہ مقامی طور پر تیار موبائل فونز کی مقامی فروخت پر 4 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس بھی ختم کیا گیا ہے۔

تاہم یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ مقامی اسمبلنگ کی وجہ سے ہر موبائل کی قیمت لازماً اتنے ہزار روپے کم ہوگئی ہے موبائل کی حتمی قیمت میں ڈالر کا ریٹ موبائل کے پرزوں کی قیمت ٹیکس، PTA سے متعلق اخراجات، کمپنی کا منافع اور دیگر لاگت بھی شامل ہوتی ہے۔ اس لیے موجودہ اعدادوشمار کی بنیاد پر یہ دعویٰ نہیں کیا جاسکتا کہ مقامی تیاری سے اب تک ہر فون مثلاً 5 یا 10 ہزار روپے سستا ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پیٹرول سستا ہونے کی راہ ہموار؟ حکومت کا بڑا فیصلہ

ایک فون پر ٹیکس میں کتنا فرق پڑ سکتا ہے؟

مقامی مینوفیکچرنگ کا اصل فائدہ ٹیکس کے پورے خاتمے کے بجائے درآمدی CBU فون اور مقامی CKD/SKD فون کے مختلف ٹیکس ڈھانچے میں ہے۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق بعض قیمتوں کے درجوں میں CKD/SKD موبائل پر سیلز ٹیکس CBU فون کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔ مثال کے طور پر موجودہ سرکاری جدول میں 30 ڈالر تک کے اسمارٹ فون پر CBU کی مقررہ سیلز ٹیکس رقم 200 روپے جبکہ CKD/SKD پر 10 روپے درج ہے 30 سے 100 ڈالر تک بھی یہی فرق موجود ہے۔ تاہم 200 ڈالر سے اوپر بعض کیٹیگریز میں یہ فرق بہت کم یا ختم ہوجاتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ سستے اور انٹری لیول فونز میں مقامی تیاری سے قیمت کم کرنے کی گنجائش زیادہ ہوسکتی ہے جبکہ مہنگے فونز میں صرف مقامی اسمبلنگ کی بنیاد پر بہت بڑی قیمت کمی کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔

اب تک کتنے موبائل مقامی طور پر تیار ہوئے؟

جنوری سے جولائی 2026 تک پاکستان میں تقریباً 1 کروڑ 70 لاکھ موبائل فون مقامی طور پر تیار یا اسمبل ہوئے، تاہم یہ تعداد گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 5 فیصد کم ہے۔ جولائی میں آنے والی تیزی نے مجموعی صورتحال کو بہتر کیا ہے۔

کون سی کمپنیاں پاکستان میں موبائل بنا رہی ہیں؟

پاکستان میں مقامی سطح پر متعدد عالمی اور پاکستانی برانڈز کے موبائل تیار یا اسمبل ہورہے ہیں۔ نمایاں ناموں میں Infinix، Tecno، Itel، Samsung، Vivo، Nokia، VGO Tel، Oppo، Realme، Xiaomi، QMobile اور G’Five شامل ہیں۔

جنوری تا جولائی کے دستیاب اعدادوشمار میں Infinix تقریباً 18.8 لاکھ یونٹس کے ساتھ بڑے اسمارٹ فون برانڈز میں مقامی پیداوار میں آگے رہا، جبکہ Tecno تقریباً 10.6 لاکھ، Samsung 9.4 لاکھ اور Vivo 9 لاکھ مقامی طور پر اسمبل کیے گئے موبائلز کے ساتھ نمایاں رہے۔

Tecno Group کے مطابق اس کی پاکستان میں موجود فیکٹریاں Tecno، Infinix، Itel اور Nokia کے موبائل تیار کرتی ہیں اور مجموعی پیداواری صلاحیت ماہانہ 10 لاکھ سے زیادہ اسمارٹ فونز ہے۔

صارف کو اصل فائدہ کب ہوگا؟

اگر مقامی صنعت صرف اسمبلنگ سے آگے بڑھ کر موبائل کے زیادہ پرزے پاکستان میں تیار کرنا شروع کردے تو پیداواری لاگت مزید کم ہوسکتی ہے۔ حکومت کی نئی پالیسی میں بھی موبائل کے پرزوں اور متعلقہ آلات کی مقامی تیاری اور لوکلائزیشن کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے۔

اس لیے موجودہ صورتحال میں صارف کے لیے سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ مقامی اسمبلنگ سے سستے اور درمیانے درجے کے موبائلز کی قیمت کم رکھنے کی گنجائش بڑھ رہی ہے، درآمدی فونز پر انحصار کم ہورہا ہے اور مستقبل میں مقامی پرزوں کی تیاری بڑھنے سے مزید سستے فون آنے کا امکان پیدا ہوسکتا ہے۔

اہم بات: ابھی دستیاب سرکاری اعدادوشمار کی بنیاد پر یہ حتمی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ مقامی موبائل اوسطاً کتنے روپے سستا ہوا ہے یا مستقبل میں کتنے روپے سستا ہوگا؛ اس کے لیے ماڈل بہ ماڈل CBU اور مقامی فون کی قیمت، ٹیکس اور لاگت کا تقابلی ڈیٹا درکار ہوگا

Qaisar Mirza
editor

Related Articles