فیلڈ مارشل مخالف بیانات پر بھارتی میڈیا اسکرینز پر جشن ، فضل الرحمان بھارتی پراپیگنڈے کا آلہ کار بن گیا

فیلڈ مارشل مخالف بیانات پر بھارتی میڈیا اسکرینز پر جشن ، فضل الرحمان بھارتی پراپیگنڈے کا آلہ کار بن گیا

مولانا فضل الرحمن کے حالیہ فوج مخالف بیانات نے بھارتی میڈیا میں بھی خاصی ہلچل مچا دی ہے اور بھارتی میڈیا کی نفرت کی آگ میں جیسے پھر سے چنگاری کو ہوا مل گئی ۔

مولانا فضل الرحمان کے پاک فوج اور فیلڈ مارشل سے متعلق حالیہ سخت بیانات جہاں پاکستان میں غم و غصہ کا سبب بنے وہیں  بھارتی میڈیا میں توجہ کا مرکز بن گئے ہیں، جہاں ان کے زہر آلود ریمارکس کو نمایاں انداز میں نشر اور رپورٹ کیا جا رہا ہے۔

فضل الرحمان کے ریمارکس کو بھارتی میڈیا نے جہاں غیر معمولی اہمیت دی اور متعدد اداروں نے ان بیانات کو اپنی سرخیوں اور خبروں کا مرکزی موضوع بنا دیا اور ایک طوفان پرپا کردیا ، مولانا فضل الرحمان کے اس بیان پر بھارت کا پاکستان کی مسلح افواج خلاف منفی پروپیگنڈا جاری ہے ۔

یاد رہے کہ 24 اگست  کو پشاور میں خطاب کے دوران جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے موجودہ عسکری قیادت  1971 کی جنگ اور افغانستان کے معاملے پر سخت بیانات دیے ہیں ۔

حال ہی میں خیبر پختونخوا کے سینئر تحقیقاتی صحافی عقیل یوسفزئی نے ایک پوڈ کاسٹ میں تہلکہ خیز انکشافات کرتے ہوئے بتایا  کہ فضل الرحمان نے ملا ہیبت اللہ سے ٹیلیفونک بات چیت کے دوران انہیں کہا تھا کہ انہیں پاکستان سے زیادہ افغانستان کے مفادات عزیز ہیں اور وہ پاکستان کے مفادات کے مقابلے میں افغانستان کے مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔

ٖفضل الرحمان بھارتی پراپیگنڈے کا آلہ کار 

مولانا فضل الرحمان کے ان بیانات  پر سب سے زیادہ جوش و خروش اگر کہیں دکھائی دیا تو وہ بھارتی ٹی وی چینلز کی سکرینوں پر تھا،  نیوز18 سی این این سمیت متعدد بھارتی میڈیا اداروں نے  فضل الرحمان کے بیان کو اس انداز میں پیش کیا جیسے پاکستان میں کوئی غیرمعمولی جنگ شروع ہو گئی ہواور انہوں نے مولانا کے اس  نفرت اور کینے سے لپٹے بیانیے کو مزید پھیلایا۔

بھارتی میڈیا کی کوریج میں سب سے نمایاں بات اس بیان کو غیر معمولی تصادم کے طور پر پیش کرنا تھی اور اسے فیلڈ مارشل سے غلط انداز میں منسوب کیا گیا ،   سرخیاں چلائی گئیں، بھارتی  میڈیا نے حسب روایت  اپنی سکرینوں کے لیے ایسا مواد بنا کرپیش کیا جس میں اصل معاملے سے زیادہ شور اور سنسنی نظر آئی۔

 بعض بھارتی رپورٹس نے انہیں پاکستانی فوج کے خلاف ایک بڑی سیاسی آواز کے طور پر پیش کیا، جبکہ 1971 کی شکست، موجودہ سیاسی صورتحال اور فوج کے کردار سے متعلق ان کے تبصروں کو نمایاں  انداز میں نشر کیا گیا یوں فضل الرحمن نے بھارتی میڈیا کے منہ میں پاکستان کے خلاف بکواس کرنے کی ہمت دیدی ۔

مولانا فضل الرحمان کا بیان، مگر بھارتی چینلز کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں 

 مولانا فضل الرحمان کا بیان  بھارتی میڈیا نے اسے ایسے ہاتھوں ہاتھ لیا جیسے ان کے لیے کوئی بڑی سیاسی کامیابی سامنے آ گئی ہو۔

بھارتی ٹی وی میڈیا بالخصوص پاکستان سے متعلق معاملات میں سنسنی خیز سرخیوں اور بلند بانگ دعووں اور بے معنی بحث کے لیے پہلے ہی جانا جاتا ہے،  اس معاملے میں بھی خبر کے اصل متن سے زیادہ اس کی پیشکش پر خصوصی توجہ دی گئی جہاں  ایسی رپورٹنگ ہے جس سے ناظرین کو اصل صورتحال سمجھنے کے بجائے صرف شور سنائی دیتا ہے۔

 پاکستان کا معاملہ لیکن بھارتی میڈیا اپنا کانٹینٹ ڈھونڈتا ہے

، کسی سیاسی رہنما کے بیان کو بھارت میں بیٹھ کر اپنی مرضی کے مفہوم میں ڈھال دینا کوئی بھارتی میڈیا سے سیکھے ،  بھارتی میڈیا ہمیشہ کی طرح  پاکستان مخالف مواد ڈھونڈنے کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتا ہے ۔

مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیان کی بھارتی میڈیا پر کوریج سے ایک بات یہ ثابت ضرور ہوتی ہے کہ معرکہ حق میں جو ذلت ورسوائی سنسنسی خیزی سے  انہوں نے سیمٹی اس سے انہوں نے کوئی سبق نہیں سیکھا ۔

پاکستانی عوام کیا کہتی ہے ؟ 

دوسری جانب پاکستانی عوام نے فضل الرحمان نے ان زہرآلود بیانات کو مسترد کردیا ہے ، عوام کا کہنا ہے کہ فضل الرحمٰن کو طالبان کی حمایت نہیں کرنی چاہیے، پاک فوج کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے،ان طالبان نے ہمارے ہزاروں فوجیوں اور نہتے شہریوں کو حملے کر کے شہید کیا ہے، قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ ہر محاذ پر کھڑی ہے۔

editor

Related Articles