وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ میں وزیرِ صحت ہوں اور خود کو اس معاملے کا ذمہ دار سمجھتا ہوں، اسی لیے میں نے خود کو پیش کیا ہے۔
قومی اسمبلی اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے واضح کیا کہ پاکستان میں صورتحال کو مثالی قرار نہیں دیا جاسکتا، دنیا میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کی اموات کے حوالے سے پاکستان کا شمار سب سے زیادہ شرح رکھنے والے ممالک میں ہوتا ہے۔
اجلاس میں مصطفیٰ کمال نے اپوزیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی کمیٹی بنائے اور واقعے کی تحقیقات کرے، تاہم تحقیقات کے لیے 40 روز کی مدت مقرر نہ کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ روزانہ تقریباً 1300 بچے پورے ملک میں جان کی بازی ہار رہے ہیں، دنیا میں بچوں کی یومیہ اموات سب سے زیادہ پاکستان میں ہو رہی ہیں، آئیں بیٹھ کر اگلے بچے کو مرنے سے بچانے کا راستہ نکالیں، صحت کا نظام سڑ چکا ہے، جسے درست کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ آج کا دن ختم ہونے تک مزید 1300 بچے جاں بحق ہو چکے ہوں گے، حالانکہ ان میں سے کئی جانیں بچائی جا سکتی ہیں ، کسی کی نیت نہیں کہ رپورٹ چھپائی جائے یا کسی کو بچایا جائے، ایک آدمی کو بھی نہیں بخشا جائے گا، چاہے وہ کتنا ہی بڑا ’ترم خان‘ کیوں نہ ہو، رپورٹ آنے دیں، اسے پڑھیں، کوئی کہیں نہیں جا رہا، یہ معاملہ کسی صورت دبنا نہیں چاہیے۔
انہوں نے اپوزیشن سے کہا کہ معاملے کو صرف تاریخوں اور کمیٹیوں تک محدود نہ کریں، حکومت کو آگے کا لائحہ عمل دیں اور گائیڈ کریں، حکومت اپنا اِن پٹ دے گی۔
انہوں نے کہا کہ پمز واقعے کو بنیاد بنا کر ہم مستقبل میں بچوں کی جانیں بچا سکتے ہیں، ہر کوئی کہتا ہے کہ اس برے کو ہٹا کر میری مرضی کا بندہ لگا دو، لیکن ہمیں نظام کو ٹھیک کرنا ہو گا، وزیرِ اعظم کی قائم کردہ کمیٹی کی رپورٹ آج رات تک آنے کی توقع ہے، اپوزیشن رپورٹ کا جائزہ لے کر نشاندہی کرے کہ کہاں سقم رہ گیا۔
انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم سے لے کر کسی کی بھی نیت کسی کو بچانے کی نہیں، کوئی نہیں بچے گا، تمام افسران کو لائن حاضر کیا جائے گا۔
مصطفیٰ کمال نے اراکینِ اسمبلی سے کہا کہ کسی بھی ایم این اے یا سینیٹر کو فون کر کے یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ فلاں شخص کو کیوں ہٹایا گیا، کیونکہ سب کے لوگ نظام میں موجود ہیں، نرسری میں 15 بچے موجود تھے، جن میں سے صرف ایک بچے کو اسٹاف نے بچایا، کسی خالہ یا پھوپھی نے نہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بچوں اور ماؤں کی اموات کا مسئلہ محض کسی ایک ہسپتال یا ایک واقعہ تک محدود نہیں بلکہ پورے صحت کے نظام کی کارکردگی کا سوال ہے، جس کے لیے حکومت، پارلیمان اور متعلقہ اداروں کو مل کر مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔