بنگلہ دیش کو بھی مکہ دفائی معاہدے میں شامل کیا جائے،پاکستانی عوام کی فیلڈ مارشل سے اپیل

بنگلہ دیش کو بھی مکہ دفائی معاہدے میں شامل کیا جائے،پاکستانی عوام کی فیلڈ مارشل سے اپیل

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں بنگلہ دیش کو بھی شامل کرنے کی تجویز پر پاکستانی شہریوں نے مثبت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بنگلہ دیش کی شمولیت سے مسلم ممالک کے دفاعی تعاون، باہمی اعتماد اور علاقائی سلامتی کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔

اسلام آباد، لاہور، کراچی، گوجرانوالہ اور راولپنڈی اور دیگر شہروں میں شہریوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ پاکستان کو بنگلہ دیش کی ممکنہ شمولیت کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کرنی چاہیے۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ  فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے اور سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ مشاورت کے ذریعے بنگلہ دیش کی شمولیت کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

شہریوں کے مطابق پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ کا موجودہ دفاعی تعاون پہلے ہی مسلم دنیا میں ایک اہم پیش رفت ہے جبکہ بنگلہ دیش جیسے اہم مسلم ملک کی شمولیت سے اس تعاون کا دائرہ مزید وسیع ہوسکتا ہے۔ تینوں ممالک نے 7 اگست 2026 کو مکہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت ایک رکن پر مسلح حملے کو تینوں پر حملہ تصور کرنے کا اصول طے کیا گیا ہے۔

اسلام آباد میں شہریوں کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش کی شمولیت کو صرف دفاعی اتحاد کے تناظر میں نہیں بلکہ مسلم ممالک کے باہمی تعاون اور علاقائی استحکام کے وسیع تر تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

ان کے مطابق پاکستان کو ڈھاکا کے ساتھ سفارتی رابطے مزید بڑھانے چاہئیں اور بنگلہ دیش کی شمولیت کے لیے سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ مشترکہ مشاورت کرنی چاہیے۔

لاہور کے شہریوں نے کہا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تاریخی اور عوامی روابط موجود ہیں اس لیے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور اقتصادی تعاون بڑھانا وقت کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پیٹرول سستا ہونے کی راہ ہموار؟ حکومت کا بڑا فیصلہ

شہریوں کے مطابق بنگلہ دیش کی شمولیت سے مشترکہ فوجی تربیت، دفاعی ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس تعاون، دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے شعبوں میں تعاون کے نئے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔

کراچی میں شہریوں نے بنگلہ دیش کی شمولیت کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش دونوں اہم بحری راستوں کے قریب واقع ہیں اس لیے سمندری سلامتی، تجارتی راستوں کے تحفظ اور بحری تعاون میں بھی دونوں ممالک ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دفاعی تعاون کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کو بھی اس عمل کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔

گوجرانوالہ کے شہریوں نے کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال میں مسلم ممالک کے درمیان اختلافات کم اور تعاون زیادہ ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق بنگلہ دیش کی شمولیت مسلم اتحاد اور مشترکہ سلامتی کے تصور کو مضبوط کرسکتی ہے۔

شہریوں نے کہا کہ اس اقدام کو کسی ملک کے خلاف محاذ آرائی کے بجائے دفاعی تعاون امن اور علاقائی استحکام کے پلیٹ فارم کے طور پر آگے بڑھایا جانا چاہیے۔

راولپنڈی کے شہریوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کی ممکنہ شمولیت کے معاملے پر پاکستان کو محض انتظار نہیں کرنا چاہیے بلکہ فعال سفارت کاری کے ذریعے معاملے کو آگے بڑھانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو سعودی عرب اور ترکیہ کی قیادت سے مشاورت کرکے بنگلہ دیش کی شمولیت کے امکانات کا جائزہ لینا چاہیے۔

عوامی مطالبے کے ساتھ اس معاملے میں بنگلہ دیش کی جانب سے بھی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ رائٹرز کے مطابق بنگلہ دیش مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت کی تجویز پر غور کر رہا ہے اور بنگلہ دیش کے جونیئر وزیر خارجہ ہمایوں کبیر نے اسے مثبت انداز میں دیکھنے کا مؤقف اختیار کیا ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے ڈھاکا کو دعوت دیے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔

سروے میں شریک شہریوں کا کہنا تھا کہ اگر بنگلہ دیش بھی اس دفاعی تعاون کا حصہ بنتا ہے تو جنوبی ایشیا کا سفارتی اور سکیورٹی منظرنامہ تبدیل ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان، بنگلہ دیش اور ترکیہ کے بڑھتے ہوئے دفاعی روابط بھارت کے لیے بھی ایک نئی علاقائی صورتحال پیدا کرسکتے ہیں۔

تاہم شہریوں نے زور دیا کہ اس اقدام کو کسی ملک کے خلاف اتحاد بنانے کے بجائے مشترکہ دفاع، مسلم ممالک کے باہمی تعاون اور علاقائی امن کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

رائٹرز کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کی شمولیت بھارت کے لیے قابلِ توجہ پیش رفت ہوگی جبکہ ڈھاکا کو اپنی خارجہ پالیسی، بھارت، چین، امریکا اور دیگر اہم شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔

پانچوں شہروں کے شہریوں کی رائے کا مجموعی خلاصہ یہی سامنے آیا کہ بنگلہ دیش کو مکہ دفاعی معاہدے میں شامل کرنے کی تجویز پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔

شہریوں کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اس معاملے کو سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ مشاورت کے ذریعے آگے بڑھائیں۔ ان کے مطابق بنگلہ دیش کی شمولیت سے مسلم ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، تجارت، ٹیکنالوجی، بحری سلامتی اور باہمی روابط کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔

ترکیہ پہلے ہی یہ مؤقف ظاہر کرچکا ہے کہ دفاعی معاہدہ صرف تین ممالک تک محدود نہیں رہنا چاہیے اور ضرورت پڑنے پر دیگر ممالک کو بھی اس دائرے میں شامل کیا جاسکتا ہے

Qaisar Mirza
editor

Related Articles