’’وزیراعظم اپنے بااثر بیوروکریٹس کو انکار نہیں کر سکتے یا پروا نہیں؟‘‘ سینئر صحافی محمد مالک

’’وزیراعظم اپنے بااثر بیوروکریٹس کو انکار نہیں کر سکتے یا پروا نہیں؟‘‘ سینئر صحافی محمد مالک

سینئر صحافی محمد مالک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر اپنی ایک پوسٹ میں پاکستان میں بیوروکریسی کے بے لگام اختیارات اور حکومتی ترجیحات پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔

محمد مالک نے اپنی پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ ایک جانب قوم مبینہ طور پر بیوروکریسی کی نااہلی کے نتیجے میں 14 شیر خوار بچوں کی ہلاکت پر سوگوار ہے جبکہ دوسری جانب وزیراعظم آفس کی توجہ اپنے سابق پرنسپل اسٹاف آفیسر اور موجودہ سیکریٹری وزارت صنعت و پیداوار کیپٹن (ر) سعید انجم کے مبینہ تحفظ پر مرکوز ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیراعظم آفس نے آج شام 5 بجے ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے، جس میں انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کو عہدے سے ہٹانے پر غور کیا جائے گا۔ محمد مالک کے مطابق، سی ای او مبینہ طور پر سیکریٹری کی جانب سے ایک متنازع آٹو پالیسی کی منظوری کے لیے دباؤ کی مزاحمت کر رہے تھے۔

سینئر صحافی نے مزید لکھا کہ مذکورہ آٹو پالیسی میں خامیاں موجود ہیں اور اسے مبینہ طور پر مخصوص مفادات کے حصول کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس معاملے کو سالانہ لاکھوں ڈالر کے کاروباری مفاد سے جوڑتے ہوئے حکومتی فیصلہ سازی پر بھی سوالات اٹھائے۔

یہ بھی پڑھیں: ایرانی صدر نے اسلامی ممالک کے درمیان عدم جارحیت کے معاہدے کی تجویز پیش کردی

محمد مالک نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ وزیراعظم یا تو اپنے دفتر کے دو بااثر بیوروکریٹک معاونین کو انکار کرنے کی پوزیشن میں نہیں یا پھر انہیں اس معاملے کی سنگینی سے کوئی سروکار نہیں۔

انہوں نے وزیر دفاع خواجہ آصف کے اس بیان کا حوالہ بھی دیا جس میں ملک میں ’’ ہائبرڈ نظام‘‘ کے کام کرنے کی بات کی گئی تھی۔ محمد مالک نے طنزیہ انداز میں سوال اٹھایا کہ اگر واقعی ایسا نظام موجود ہے تو کیا اب فیلڈ مارشل کو اس معاملے میں مداخلت کرنی چاہیے؟

تاہم محمد مالک کی جانب سے ایکس پر کیے گئے یہ تمام دعوے ان کی اپنی رائے اور الزامات پر مبنی ہیں، جن کی آزادانہ طور پر تصدیق اس پوسٹ کی بنیاد پر نہیں کی جا سکتی۔ متعلقہ حکام یا وزیراعظم آفس کی جانب سے ان الزامات پر باضابطہ مؤقف سامنے آنے کی صورت میں معاملے کی مزید وضاحت ممکن ہوگی۔

Related Articles